خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 182

خطبات مسرور جلد ہشتم 182 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 ہے ؟ ہاں ہم اس کے احکامات پر عمل کرنے کی وجہ سے اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں بشر طیکہ ہمارا ہر قول و فعل خالصتاً اس کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے کے امام آنحضرت صلی الم کے عاشق صادق مسیح موعود و مہدی معہود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی اور یہ توفیق عطا فرماتے ہوئے ہمیں اس گروہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی جو آنحضرت صلی اللہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے آپ کے حکم کو پورا کرنے والا بنا۔پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلوں پر احسان کیا تو اب اسی طرح آخرین پر بھی احسان کیا۔خدا تعالیٰ ہمیں اپنے اس احسان کو یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ اَنْ هَدُ لَكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ (الحجرات: 18)۔اللہ تمہیں ایمان کی طرف ہدایت دینے کا تم پر احسان رکھتا ہے۔پس ایمان کی قبولیت اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے ہے۔اور اس احسان کی شکر گزاری ایمان میں ترقی کی طرف بڑھنے کی کوشش ہے۔اور اس کوشش میں ایک حقیقی مسلمان یا حقیقی مومن اس وقت قدم مارنے والا کہلا سکتا ہے جب دل میں تقویٰ پیدا ہو۔جب اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مد نظر ہو۔جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنا مقصد پیدائش سامنے ہو ، جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : 57) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس کا اگر کوئی مقصد ہے تو یہی مقصد ہے۔ایک عبادت کرنے والا انسان ہی حقیقی عبد رحمان کہلا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا شکر گزار ہو سکتا ہے۔پانچ وقت با قاعدہ نمازوں کے علاوہ ذکر الہی بھی عبادت ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کسی بھی کام کو کرنا عبادت بن جاتا ہے۔لیکن نماز تمام عبادات کا مغز ہے۔پس سب سے پہلے تو ایک مومن بننے کے لئے اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی نمازوں کی حفاظت کریں۔انہیں قائم کرنے کی کوشش کریں۔یہ جو آپ سینٹر بنارہے ہیں یہاں اور پھر مسجد بنانے کی بھی کوشش ہو گی انشاء اللہ۔اسی طرح روم سے آئے ہوئے بھی بعض احمدیوں نے بھی مجھے دعا کے لئے کہا کہ ہم لوگ بھی مسجد بنانے کے قابل ہو جائیں۔تو یہ خواہشات اور دعائیں قبول کروانے کا یا پوری کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ نیک مقصد کے حصول کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ، کسی بھی نیک مقصد کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے آگے، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بنانا ہے اور بنانے کی کوشش کرنا ہے۔اس کے آگے جھکیں رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے نیک مقاصد کے حصول کے راستے بھی کھولتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ۔اپنی عبادتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر وہ عبادت جو تمام عبادات کا مغز ہے، اس کی طرف ہی توجہ نہیں، اگر پانچ نمازیں ہی ادا کرنے کی طرف پوری طرح توجہ نہیں، تو اس سینٹر کی عمارت یا مسجد ایمانوں میں جلا پیدا کرنے کا باعث تو نہیں بن سکتی۔میں نے تبلیغ کرنے اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کی بات کی ہے۔تو اس کا ذریعہ بھی دعائیں ہی بنتی ہیں اور