خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 183

خطبات مسرور جلد ہشتم 183 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 تبلیغ کے نتائج بھی دعاؤں ہی سے نکلنے ہیں۔انشاء اللہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہماری فتح دعاؤں ہی سے ہونی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 57) پس فتح کے حصول کے لئے دعاؤں کے اس ذریعے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر فرمایا ہے اور وہ نماز ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی ابتداء میں ہی سورۃ بقرۃ کی چوتھی آیت میں ایمان بالغیب کے بعد نماز کے قیام کی طرف توجہ دلائی ہے۔تقویٰ کے مدارج طے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نمازوں کے قیام کی کوشش کی جائے۔مجھے ملاقات کے دوران بھی بعض احباب ملے۔بڑی بڑی قربانیاں کرنے والے خاندانوں کے افراد ہیں لیکن نمازوں میں سست ہیں۔خود احساس ہے کہ ہم نمازوں میں سست ہیں۔اس کے لئے دعا کے لئے بھی کہتے ہیں۔لیکن دعائیں بھی اس وقت کام کرتی ہیں، جب آپ خود بھی کوئی عملی قدم اٹھائیں گے۔ایک طرف تو آذان کی آواز آرہی ہو اور نماز کی طرف بلایا جارہا ہو اور بجائے اس کے کہ آذان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسجد کی طرف جائیں، خود اپنے کاروبار کے پیچھے چل پڑیں، تو پھر یہ دعاؤں کی درخواست نفس کا دھوکہ ہے۔یہ اس شخص کے لئے بھی دھو کہ ہے جسے آپ نیکیوں پر قائم ہونے کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہیں یا دعا کے لئے کہتے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی دھو کہ ہے۔پس اس دھوکے سے باہر نکلیں۔اگر نیت نیک ہے تو عملی قدم اٹھانے کے لئے اپنے نفس کے شیطان کے خلاف بھی جہاد کریں۔جب یہ کوشش ہو گی تو پھر آپ دیکھیں گے کہ نماز آپ کی اولین ترجیح بن جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”انسان کو جو کچھ اندرونی اور بیرونی اعضاء دیئے گئے ہیں یا جو کچھ قوتیں عنایت ہوئیں ہیں ، اصل مقصود ان سے خدا کی معرفت اور خدا کی پرستش اور خدا کی محبت ہے۔اسی وجہ سے انسان دنیا میں ہزاروں شغلوں کو اختیار کر کے پھر بھی بجز خدا کے اپنی سچی خوشحالی کسی میں نہیں پاتا۔بڑا دولتمند ہو کر، بڑا عہدہ پا کر ، بڑا تاجر بن کر ، بڑی بادشاہی تک پہنچ کر، بڑا فلاسفر کہلا کر آخر ان دنیوی گر فتاریوں سے بڑی حسرتوں کے ساتھ جاتا ہے۔اور ہمیشہ دل اس کا دنیا کے استغراق سے اس کو ملزم کرتا رہتا ہے۔اور اس کے مکروں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں کبھی اس کا کانشنس اس سے اتفاق نہیں کرتا“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 415) پس اگر ہر ایک اپنے اندر کے جائزے لے تو خود ضمیر کی آواز اسے بے چین کر دیتی ہے اور ایک احمدی کو جسے خدا تعالیٰ نے زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے اور اس کی کسی نیکی کی وجہ سے جماعت کے ساتھ جڑے رہنے پر قائم رکھا ہوا ہے ، اس کا ضمیر تو بار بارا سے اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ اپنے مقصد پیدائش کو یاد رکھو۔یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ احمدی بڑی بے چینی سے، بعض لوگ بڑی سنجیدگی سے اور نیک نیتی سے اور بے چینی سے اپنے خطوں میں بھی اس کا اظہار کرتے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا ملاقاتوں کے دوران زبانی بھی کہتے ہیں کہ دعا کریں