خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد ہشتم 181 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 مراکش اور الجزائر کے احمدی ہونے والے بعض افراد نے دورانِ ملاقات مجھے بتایا ہے کہ انہیں خدا تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شبیہ مبارک دکھا کر یا کسی اور طرح سے خواب میں احمدیت کی صداقت کے بارے میں بتا کر احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فعل یقیناً آپ کی کسی نیکی کی وجہ سے آپ کے حق میں صادر ہوا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جس کا بدلہ آپ تمام زندگی بھی کوشش کریں تو نہیں اتار سکتے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: 61) که احسان کی جزا احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتی ہے؟ اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ بچپن کی پرورش کی وجہ سے ہمیں یہ حکم ہے کہ یہ احسان جو تمہارے والدین نے تم پر کیا ہے ، ہمیشہ ان کے احسان کو یاد رکھتے ہوئے ان سے حسن سلوک رکھو۔بلکہ حدیث میں ہے کہ ان کے احسان کا بدلہ تم تمام عمر ا تار ہی نہیں سکتے۔تو خدا تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر اپنے نیک بندوں پر احسان کرنے والا ہے ، بلکہ اپنے تمام بندوں پر احسان کرنے والا ہے وہ کس قدر حق رکھتا ہے کہ اس کے احسان کا بدلہ اتارا جائے یا اتارنے کی کوشش کی جائے ؟ ایک تو اس کی رحمانیت کی وجہ سے اس کا احسانِ عام ہے جو ہر مخلوق پر ہو رہا ہے۔اور یہ احسانِ عام ایک نیک فطرت کے لئے اس کی ربوبیت کی شکر گزاری کرتے ہوئے اسے سر اٹھانے کی مہلت نہیں دیتا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ روحانی طور پر خود رہنمائی فرما رہا ہو اور آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کے لئے اپنے خاص فضل سے رہنمائی کر رہا ہو تو یہ خدا تعالیٰ کا کس قدر بڑا احسان ہے ، جس کو انسان چاہے بھی تو نہیں اتار سکتا۔پس جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ کا معاملہ آئے گا تو یہ یکطرفہ معاملہ ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کے احسان کو اتار نا ممکن ہی نہیں۔اور ایک عبد رحمان کے لئے صرف اور صرف ایک راستہ ہے کہ تاحیات اس کی نعمتوں کا اظہار کرتا رہے اور اس کا شکر گزار بندہ بنار ہے۔اور ایک احمدی کا یہ کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اپنے ماحول میں پھیلانے کی ہر وقت کوشش کرتا رہے۔پس یہاں رہنے والے عرب احمدیوں سے یعنی مراکش اور الجزائر وغیرہ کے احمدی جو ہیں ان سے بھی میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا بدلہ تو نہیں اتارا جا سکتا۔لیکن شکر گزاری کا اظہار خاص طور پر اپنے ہم قوموں اور ہم وطنوں میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے کرتے چلے جائیں۔یہ پیغام اور جو باتیں میں کر رہا ہوں صرف عربی بولنے والوں کے لئے نہیں ہیں یا جو میں نے پاکستانی اور افریقن یا عربوں کا ذکر کیا ہے صرف ان کے لئے نہیں ہیں۔یہاں ہمارے بنگالی احمدی بھی ہیں ان کا بھی یہ کام ہے کہ اسی نہج پر کام کرتے چلے جائیں۔بلکہ یہ پیغام ہر قوم کے فرد کے لئے ہے۔ہماری زندگیاں بھی اس کام میں ختم ہو جائیں تب بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احسان کا بدلہ اتار دیا ہے۔خالق و مالک اور رب کے احسانوں کا بدلہ کس طرح اتر سکتا