خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 175

خطبات مسرور جلد ہشتم 175 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 اپریل 2010 کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ایک سال میں آبادی کے کم از کم ایک یا دو فیصد تک احمدیت کا تعارف پہنچانا ہے۔جن ملکوں میں اس نہج پر کوشش ہو رہی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب نتائج نکل رہے ہیں۔اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہے مربیان بھی اور جماعتی نظام بھی اور تمام ذیلی تنظیمیں بھی یہ سارے نظام ساتھ ساتھ چلیں۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذمہ بھی یہی کام لگایا تھا۔یہی کام آنحضرت صلی علیکم کے ذمہ بھی لگایا گیا۔اور یہی کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذمہ لگایا گیا کہ تمہارا کام پیغام پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَاغُ (الشورى: 49) پھر اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے تجھے ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا۔تجھ پر پیغام پہنچادینے کے علاوہ کچھ فرض نہیں ہے۔پس یہ فرض ہے جو ہر ملک میں احمدی نے ادا کرنا ہے۔یہ فرض ہے جو آپ نے اس ملک میں ادا کرنا ہے۔بڑی بڑی کتابیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔دو ورقہ شائع کریں بلکہ ایک ورقہ ہی جس میں مختصر الفاظ میں احمدیت کا تعارف ہو اور ایم ٹی اے، ویب سائٹ وغیرہ کا پتہ ہو۔دلچسپی لینے والے پھر خود ہی توجہ کرتے ہیں۔اسی طرح جہاں جہاں بھی احمدی رہتے ہیں اپنے علاقہ کے بڑے اور مشہور لوگوں سے رابطے کریں۔اگر جس طرح مرکز ہدایات دے رہا تھا صحیح طور پر کام ہوا ہو تا، تو مسجد بشارت کو بنے ہوئے اب اٹھائیس سال ہو گئے ہیں اس حوالہ سے ہی آپ کا تعارف مختلف حلقوں میں ہو جاتا۔ویلنسیا میں مسجد بنانے میں جو روک پڑرہی ہے اگر تعلقات صحیح رکھے ہوتے تو وہ روکیں بہت پہلے دور ہو چکی ہو تیں۔جب وقت آتا ہے تو اس وقت آپ کو شش کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ لمبی منصوبہ بندی کرنے کے لئے پہلے سے سوچیں اور مستقل تعلقات رکھیں۔پس ان سوچوں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔۔اس مسجد کی تاریخ کے اٹھائیس سال میں اگر سال میں چند وفود یہاں آجاتے ہیں تو یہ کوئی کامیابی نہیں ہے یا کوئی بہت بڑا معرکہ نہیں ہے جو آپ نے مار لیا ہے۔لٹریچر کی وافر تعداد بھی آپ کے پاس نہیں ہے۔آج کل دنیا کو امن اور معاشی حالات پر بھی کچھ کہنے سننے کا شوق ہے۔اسلام کی جہاد کے نام پر جو بدنامی ہو رہی ہے اس بارہ میں بھی کچھ سننے کا شوق ہے۔اس کے مطابق لٹریچر مہیا ہونا چاہئے ، اور ہے مہیا، صرف ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔میں نے کہا تھا کہ بڑے شہروں سے ہٹ کر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں جا کر جلسے اور سیمینار وغیرہ کریں۔اس سے پہلے وہاں جا کر تعارف حاصل کریں۔وہاں کے مذاہب کے لیڈروں کو دعوت دیں کہ ایک جلسہ منعقد کرتے ہیں جس میں ہر مذہب والا اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور اس کے مختلف عنوان آپ خود مقرر کر سکتے ہیں۔اگر سیکر ٹریان دعوت و تبلیغ فقال ہوں، اگر جماعتی نظام فقال ہو تو اس کے لئے کرائے پر ہال لئے جاسکتے ہیں۔غرض کہ بے شمار طریقے ہیں۔اگر مبلغین اور ذیلی تنظیمیں سب فقال ہو جائیں تو بہت کام ہو سکتا ہے۔جو ستیاں ہو رہی ہیں وہ ہر طرف سے ہو رہی ہیں۔فی الحال تو ہم یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ ہم نے پیغام پہنچانے کا حق ادا