خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 166

خطبات مسرور جلد ہشتم 166 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 قدم بڑھائیں وہ پاک تبدیلیاں پیدا کریں جو زندگی کا لازمی حصہ بن جائیں اور جب یہاں سے واپس لوٹیں تو گھروں میں جاکر بھی یہ احساس قائم رہے کہ ہم اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کر کے لوٹے ہیں۔یہ بھی دعا کریں کہ ان ممالک کے جو حالات ہیں جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے ان کی وجہ سے ہمیں کہیں اور ہجرت نہ کرنی پڑے۔ہجرت کی ضرورت بھی ہو تو انشاء اللہ تعالیٰ اپنے وطن میں ہی ہو جہاں آزادی سے ہم اپنے دین پر عمل بھی کر سکیں اور اس کو پھیلا بھی سکیں۔اس جلسہ میں شامل ہو نے والوں کو ہر وقت اپنے مقام کو سامنے رکھنا چاہئے۔اور جیسا کہ میں نے کہا دعاؤں اور درود کی طرف توجہ دیتے رہیں۔جلسہ میں شامل ہونے کے لئے مرا کو سے بھی ایک وفد یہاں آیا ہوا ہے۔انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے ہم وطنوں کا حق اس صورت میں ادا ہو سکتا ہے جب ہم ان کے سامنے اپنے ایسے نمونے پیش کریں گے جو ان کے لئے کشش کا باعث ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔پاکستان میں ایک ظلم کا واقعہ ہوا ہے۔اس وقت اس کے بارہ میں بھی میں کچھ بیان کروں گا۔ایک انتہائی افسوسناک خبر ہے۔انتہائی ظالمانہ کام ہوا ہے جس کی ابھی کل رات کو اطلاع آئی ہے کہ کل جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً دس بجے فیصل آباد کے شیخ اشرف پرویز صاحب اور شیخ مسعود جاوید صاحب جو شیخ بشیر احمد صاحب مرحوم کے بیٹے تھے اور آصف مسعود صاحب کو جو شیخ مسعود جاوید صاحب کے بیٹے تھے ان تین احمدی احباب کو شہید کر دیا گیا ہے۔ان کی دکان مراد کلاتھ ہاؤس اور مراد جیولرز کے نام سے تھی ریل بازار فیصل آباد میں۔یہ رات کو دکان بند کر کے گاڑی میں جارہے تھے کہ فیصل ہسپتال کے قریب جب ایک جگہ پہنچے تو وہاں موجود چار پانچ افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تینوں افراد شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال جاتے جاتے شہید ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اشرف پرویز صاحب کی عمر 60 سال تھی اور ان کے چھوٹے بھائی مسعود جاوید صاحب کی عمر 57 سال تھی۔جبکہ شیخ مسعود جاوید صاحب کے بیٹے آصف مسعود کی عمر 24 سال تھی اور آصف مسعود بھی شادی شدہ تھے ان کی بالکل ایک سال کی عمر کی ایک بیٹی ہے۔اشرف پرویز صاحب کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں ہیں جو شادی شدہ ہیں۔بیٹوں میں سے ایک بیٹا 27 سال کا وہ بھی شادی شدہ ہے اور دوسر ا چھوٹا بیٹا 22 سال کا ہے جو غیر شادی شدہ ہے۔اسی طرح شیخ مسعود جاوید صاحب کے پسماندگان میں ان کی دو بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور بیٹے بھی شادی شدہ ہیں۔ایک بیٹا تو شہید ہو گیا، دوسرے ان سے بڑے بیٹے ہیں وہ بھی شادی شدہ ہیں۔شیخ بشیر احمد صاحب جن کے شہداء میں سے دو بیٹے تھے اور ان کے آگے ان کا پوتا، یہ بہت مخلص احمدی تھے۔ان کی والدہ زینب بی بی صاحبہ شیخ