خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد ہشتم 161 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اپریل 2010 لیکن آج ایک افریقن حج پر اپنے گناہوں سے پاک ہونے کے لئے جاتا ہے تو ایک گناہ کو کرتے چلے جانے کا اجازت نامہ لے کر آتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہلاکت ہو گی۔دولت کی وجہ سے مسلمانوں کی جو ان برائیوں میں مبتلا ہیں انتہائی مکر وہ حالت ہو گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو اٹھ کبیر کہا ہے۔یعنی ایسا بڑا گناہ جو بار بار گناہ کرنے پر ابھارتا ہے اور نیکیوں سے روکتا ہے اس میں مبتلا ہونا ان کی ہلاکت کا باعث ہے۔پس شراب اور جو اوغیرہ جو ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے جوئے کو بھی شراب کے ساتھ بیان فرما کر الله کبیر فرمایا ہے۔یہ برائیاں مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہیں۔بلکہ ہر ایک کی تباہی کی بنیاد ہیں۔کیونکہ یہ دین سے دور لے جانے والی ہیں۔خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہیں اور جب انسان خدا تعالیٰ سے دُور چلا گیا تو پھر اپنے اوپر ہلاکت سہیڑ لی۔پس ان ملکوں میں جہاں شراب پانی کی طرح پی جاتی ہے۔جہاں ہر دکان پر ہر ریسٹورنٹ پر ، ہر پٹرول سٹیشن پر شراب ملتی ہے اور جوئے کی مشینیں لگی ہوئی ہیں اور یہ چیزیں پھر ترقی کی نشانی سمجھی جاتی ہیں احمدیوں کو بڑا پھونک پھونک کر چلنے کی ضرورت ہے اور نہ صرف اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچانا ہے بلکہ اپنی نسلوں کی، اپنے بچوں کی خاص طور پر ان کی جو نوجوان ہیں، نوجوانی میں قدم رکھ رہے ہیں، حفاظت کرنی ہے۔ان چیزوں کی ، ان برائیوں کی اہمیت ان پر واضح کرنی ہے۔جوئے کی عادت کھیل کھیل میں پڑ جاتی ہے اور پھر یہ ایک ایسا نشہ ہے کہ جو اس میں مزید مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔پھر انسان اس برائی میں دھنستا چلا جاتا ہے۔اکاد کا احمدیوں میں بھی بعض ایسے لوگ ہیں۔لیکن غیر احمدیوں میں تو بہت سے ایسے ہیں جو ان برائیوں میں ایسے پڑے ہیں کہ اس کو اب برائی سمجھتے ہی نہیں۔اور یورپ کے ماحول میں ڈھل کر اپنے گھروں میں بھی شرابوں کی علیحدہ الماریاں بنائی ہوئی ہیں۔شرابیں ان میں سجا کر رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے تو ایسے تمام لوگوں پر لعنت ڈالی ہے جو شراب بناتے ہیں، شراب رکھتے ہیں، شراب پلاتے ہیں یا پیتے ہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب الاشر بہ باب العنب بعصر علم حدیث نمبر 3674) کس قدر خوف کا مقام ہے۔پس جب میں احمدیوں سے یہ کہتا ہوں کہ تم نے کسی ایسی جگہ پر نوکری نہیں کرنی، کام نہیں کرنا جہاں شراب پلانے کا کاروبار بھی ہو تا ہو تو یہ اس لئے ہے کہ یہ چیز ہلاک کرنے والی ہے۔ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ غیر مسلموں کے ریسٹورنٹ یا کاروبار اس لئے چل رہے ہیں کہ انہوں نے شراب بھی وہاں رکھی ہوئی ہے یا بعض مسلمان جن کو کسی چیز کی پرواہ نہیں وہ اس لئے اپنے ریسٹورنٹ چلا کر دولت کمارہے ہیں کہ وہاں شرابیں بھی بکتی ہیں اور سور بھی بکتا ہے تو ایسی دولت جو ہلاکت کی طرف لے جانے والی ہو ان کو مبارک ہو۔ہمیں تو ایسا طیب اور پاک رزق چاہئے جو خد اتعالیٰ کا قرب دلانے والا ہو۔اِن لوگوں کی تو دین کی آنکھ اندھی ہے اور پیشگوئی کے مطابق ان کو دنیاوی آسائشوں کی فراوانی ہوئی تھی اور ہوتی ہے۔لیکن ایک حقیقی مسلمان کا تو مطمح نظر دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔اسلام کے علاوہ ہر دین روحانی طور پر مردہ ہو چکا ہے۔وہ اگر کوئی ایسا کام کرتے ہیں تو ان کی آج کل کی