خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page xvii of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page xvii

خطبات مسرور جلد ہشتم 11 خلاصہ خطبات زمانے میں نہیں دہرائے گا، ان میں ایک خلافت کا تسلسل بھی ہے، اس مہینے میں خاص طور درود شریف پڑھنے کی تحریک، دو افریقن بھائی مکرم مہدی ٹپانی صاحب آف زمبابوے اور مکرم ڈاکٹر الحاج ابو بکر گائی صاحب گیمبیا کے منسٹر 51 آف ہیلتھ کا ذکر خیر ، بنگلہ ڈیسک کے انچارج مکرم فیروز عالم صاحب کی والدہ مکرمہ عزت النساء صاحبہ کا ذکر خیر۔17 دسمبر بيت الفتوح لندن 659-641 ایسے چند بزرگوں کی روایات اور واقعات کا ذکر جنہوں نے مسیح پاک علیہ السلام کے ہاتھوں کو چھوا اور آپ سے برادر است فیض پایا، یہ یاد رہے کہ ان بزرگوں کے کس قدر ہم پر احسان ہیں، پس ان بزرگوں کی نسلوں کو بہت زیادہ اپنے بزرگوں کے لئے دعائیں بھی کرنی چاہئیں اور ساتھ اپنے ایمان کی ترقی اور استقامت کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔52 24دسمبر بیت الفتوح لندن 640-629 جلسہ سالانہ قادیان اور ربوہ کے جلسوں کی یادیں، 27 سال گزرنے کے بعد بھی ہم مایوس نہیں وہ رونقیں ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے خواب و خیال نہیں بن گئیں انشاء اللہ تعالیٰ یہ رونقیں دوبارہ قائم ہوں گی اور ضرور ہوں گی، شاملین کو جلسہ کے حوالہ سے نصائح اور خصوصیت سے دعاؤں پر زور دینے کی تلقین، مردان کے ایک نوجوان مکرم شیخ عمر جاوید صاحب کی شہادت۔53 31 دسمبر بیت الفتوح لندن 681-671 جمعہ کا بابرکت دن جس سے اس سال کا آغاز اور اسی پر اختتام ہو رہا ہے، شہداء کا ذکر خیر اور ان کے گھر والوں کے نیک اور ایمان افروز جذبات کا تذکرہ ، ان قربانیوں نے کثرت سے دنیا بھر میں احمدیت کا پر امن پیغام پہنچانے کا موقع دیا، یہ قربانیاں انشاء اللہ کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، جمعہ کی اہمیت احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات، آپس کے تعلقات ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہونے چاہئی، اگلے سال کا استقبال دعاؤں اور عبادات سے کریں، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا تذکرہ اور رشین ڈیسک کی مساعی ، اور alislam۔org ویب سائٹ پر روحانی خزائن کو search engine میں ڈالا جانا، تیسری بات میں آج یہ کہنا چاہتا تھا کہ مجھے پتہ لگا کہ میرے نام سے آج کل انٹر نیٹ وغیرہ پر فیس بک (Face Book) ہے۔فیس بک کا ایک اکاؤنٹ کھلا ہوا ہے جس کا میرے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں، میں نے تو جماعت کو کچھ عرصہ ہوا اس بارہ میں تنبیہ کی تھی کہ اس فیس بک سے بچیں۔اس میں قباحتیں زیادہ ہیں اور فائدے کم ہیں۔خاص طور پر لڑکیوں کو تو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔اگر ایسی کوئی صورت کبھی پیدا ہوئی جس میں جماعتی طور پر کسی قسم کی فیس بک کی طرز کی کوئی چیز جاری کرنی ہوئی تو اس کو محفوظ طریقے سے جاری کیا جائے گا۔