خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 147
خطبات مسرور جلد ہشتم 147 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 مارچ2010 سے اسلام کے نام پر جب بھی کچھ مانگا گیا تو آپ نے فور اعطا فرما دیا۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان پھیلا ہوا بکریوں کا ریوڑ عطا فرما دیا۔وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو کہنے لگا۔اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ۔کیونکہ محمد صل علی ظلم تو اتنا عطا کرتے ہیں کہ جس کی موجودگی میں فاقہ کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔( صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ما سئل رسول الله شيئا فقط فقال لا و كثرة عطائہ حدیث نمبر 5914) ابن شہاب زھری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی العلم فتح مکہ کے بعد اپنے ساتھ موجود مسلمانوں کے ساتھ نکلے اور حسنین کی جنگ لڑی۔اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے دین اور مسلمانوں کی نصرت فرمائی۔اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ کریم نے صفوان بن امیہ کو سو اونٹ عطا فرمائے۔پھر سو اونٹ دیئے، پھر سو اونٹ دیئے۔( یعنی تین سو اونٹ عطا فرمائے۔) یہ مسلم کی روایت ہے۔( صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ما سئل رسول اللہ شیئن فقط فقال لا حدیث نمبر 5916) ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ سعید بن المسیب نے مجھے بتایا کہ صفوان خود کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے مجھے جب یہ عظیم الشان انعام عطا فرمایا تو اس سے پہلے آپ میری نظر میں سب دنیا سے زیادہ قابل نفرت وجود تھے۔لیکن جوں جوں آپ مجھے عطا فرماتے چلے گئے آپ مجھے محبوب ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ آپ مجھے سب دنیا سے زیادہ پیارے ہو گئے۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ما سئل رسول اللہ شیئا قط فقال لاحدیث نمبر 5916) بعض دفعہ دنیا کی دولت بھی دین کی طرف لے آتی ہے اور سچائی کا رستہ دکھا دیتی ہے۔جب آپ صفوان کے پیارے ہو گئے تو ظاہر ہے کہ سب سے بڑی دولت ان کے نزدیک پھر آپ کی محبت تھی۔ایک روایت میں ان کے بارہ میں اس طرح بھی آتا ہے کہ ایک وادی سے گزرے۔صفوان ساتھ تھے۔آنحضرت صلی علی یکم جب گزرے تو وادی میں ریوڑ چر رہا تھا۔صفوان نے اس ریوڑ کو بڑی حسرت کی نظر سے دیکھا تو آنحضرت صلی ال ولم نے فرمایا کہ کیا تمہیں یہ بہت اچھا لگ رہا ہے ؟ اس نے کہا: جی۔تو آپ نے فرمایا جاؤ یہ تم لے لو۔صفوان اتنی بڑی عطا پر حضور صلی این ایم کے قدموں میں گر گیا اور اسلام قبول کر لیا۔اور یہ کہنے لگا کہ اتنی بڑی عطا خدا کا نبی ہی کر سکتا ہے۔صفوان ایک ایسا شخص تھا جو بدترین دشمن تھا اور فتح مکہ کے وقت بھی مکہ سے بھاگ گیا تھا اس لئے کہ اس کو علم تھا کہ میں نے جو زیادتیاں مسلمانوں پر کی ہوئی ہیں اس کی وجہ سے کوئی امکان ہی نہیں کہ میں بخشا جاؤں، سزا سے بچ جاؤں۔لیکن آنحضرت صلی اللی عوام نے اس کو بھی نہ صرف یہ کہ معاف فرما دیا بلکہ بے انتہا عطا بھی فرمایا۔( السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 135 باب ذکر مغازیہ۔دار الکتب العلمیة بیروت۔طبع اول 2002ء) آنحضرت صلی ا ہم نے اپنے صحابہ کو اور اپنی اُمت کو دین کے معاملے میں خرچ کرنے میں کنجوسی نہ