خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 134

خطبات مسرور جلد ہشتم 134 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ 2010 حارث نام یعنی حراث، ماوراء النہر سے یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا۔جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہو گی اور الہامی طور پر مجھ پر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہو گا دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں“۔(ایک ہی مضمون رکھتی ہیں) ”اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے۔اس کی علامات خاصہ در حقیقت دو ہی ہیں۔ایک یہ کہ جب وہ مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہو گی اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دے گا اور ان کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو بکلی دور فرما کر جواہرات علوم حقائق و معارف ان کے سامنے رکھ دے گا۔یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائیں گے اور ان میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نادار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں ان کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا اور علوم حقہ کے موتیوں سے ان کی جھولیاں پر کر دی جائیں گی اور جو مغز اور لب لباب قرآن شریف کا ہے اس عطر کے بھرے ہوئے شیشے ان کو دئے جائیں گے“۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 141-142 حاشیہ) پس یہ روحانی خزانہ ہے جسے ایک طرف تو وہ بد قسمت لوگ ہیں جو اسے لینے سے انکار کر رہے ہیں اور دوسری طرف سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں جو اس سے سیر ہو رہے ہیں اور ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روحانی علوم و معارف کا وہ خزانہ ہمیں دے دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے نوازنے والا اور آنحضرت صلی علیم کی محبت دلوں میں بھرنے والا ہے اور تمام ادیان پر اسلام کی سچائی ثابت کر کے دکھلانے والا ہے۔پس ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس علمی اور روحانی خزانے سے اپنی جھولیاں بھریں اور کامیاب اور بامراد ہوں۔اردو پڑھنے اور سمجھنے والے تو آپ کے اس روحانی خزانے کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش اپنی تمام تر استعدادوں کے ساتھ کر رہے ہیں اور کرنی چاہئے۔میں پہلے بھی اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ تمام ذیلی تنظیمیں بھی اور جماعتی نظام بھی اس بات کا خاص اہتمام کریں۔اور اردو نہ جاننے والے آپ کا کلام جو دوسری زبانوں میں جس حد تک میسر ہے اس سے فیض اٹھانے کی کوشش کریں۔تراجم کا کام بھی ہو رہا ہے۔انگریزی زبان میں زیادہ اور دوسری زبانوں میں ذرا کم یا کچھ حد تک۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ اس روحانی خزانے کو جلد از جلد دنیا تک مختلف زبانوں میں پہنچانے والے ہم بن سکیں۔آج کی جو آیات میں نے صفت حسینب کے حوالے سے چینی ہیں اب میں ان کے بارہ میں کچھ کہوں گا بات کروں گا۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِلهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ وَ اِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير (البقرة:285) که b