خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد ہشتم 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 لئے وسعتوں کے سامان پیدا کرے گی۔یہ نہ سمجھو کہ جو ظلم تم پر ہوئے یہ یونہی رائیگاں چلے جائیں گے۔ہر ہر ظلم کے بدلے میں خدا تعالیٰ تمہیں ایسے اجروں سے نوازے گا جن کا تم شمار بھی نہیں کر سکتے اور یہی صبر کرنے والوں کی جزا ہے۔اور پھر جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ ان صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ایک بڑے حصے کا حکمران بنا دیا۔ان کو حکومتیں عطا ہوئیں۔پس وہ تقویٰ تھا، اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی تھی جس نے نہتوں اور کمزوروں کو حکومتیں عطا فرمائیں۔آج یہ مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ حکومتیں ہونے کے باوجود ایک لحاظ سے محکوم ہیں لیکن ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کیونکہ سچے وعدوں والا ہے ، اس نے یہ تمام نظارے آنحضرت صلی علیکم کو پہلے دکھا کر یہ بھی بتادیا تھا کہ تقویٰ اور صبر کے پھل صرف کسی زمانے تک محدود نہیں۔بلکہ جس طرح قرونِ اولیٰ کے مومنوں نے نمونے دکھائے اور یہ پھل کھائے۔ایک تاریک زمانے کے بعد مومنین پھر یہ پھل کھائیں گے اور آنحضرت صلی ال عوام کو یہ خوشخبری دی کہ غلبہ اسلام تیرے عاشق صادق اور اس کی جماعت کے ذریعے سے ہو گا اور یہی حالات جو بیان ہوئے ہیں ہزاروں مسلمانوں پر من حیث الجماعت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت پر بھی گزریں گے اور جس طرح ابتداء میں مسلمانوں پر زمین تنگ کی گئی تھی تو اسلام کے پھیلنے کے دروازے کھلتے چلے گئے ، اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام پر بھی زمین تنگ کی جائے گی اور اس کے بعد یہ راستے کھلیں گے۔اس لئے آنحضرت صلی یم نے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی بلکہ وصیت فرمائی تھی کہ تم اس زمانے میں مسیح محمدی کو تنگ کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا بلکہ اس کو جاکر میر اسلام پہنچانا اور اس کی مدد کرنا۔(المعجم الاوسط جلد 3 من اسمه عیسی حدیث نمبر 4898 صفحہ 383-384۔دار الفکر ، عمان اردن طبع اول 1999ء) آج ہر احمد ی گواہ ہے کہ پاکستان میں جماعتی طور پر ہمارے پر زمین تنگ کی گئی۔مختلف قسم کی پابندیاں لگائی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے آج 195 ممالک میں احمدیت کا پودا لگا دیا۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ افراد کی ترقی جماعت کی ترقی سے وابستہ ہے۔انفرادی نقصانات سے جماعت کی ترقیاں رک نہیں جاتیں۔پہلے زمانے میں بھی مسلمانوں کی شہادتوں نے نئی حکومتوں کے دروازے کھولے تھے اور آج بھی احمدیوں کی قربانیاں احمدیت کی ترقی کا باعث بنتی چلی جارہی ہیں۔آج دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں مسیح محمدی کا پیغام نہیں پہنچ رہا۔جہاں آنحضرت صلی علیہ کم پر درود بھیجنے والے موجود نہیں۔دنیا میں اس وقت MTA کے ذریعہ سے ہر جگہ پیغام پہنچ رہا ہے اور جب MTA کے ذریعے سے درود پڑھا جاتا ہے تو دنیا کے ان ملکوں میں چاہے کوئی پڑھنے والا ہو نہ ہو ، اس کی فضاؤں میں وہ درُود بہر حال پھیل رہا ہے۔اس وقت جیسا کہ میں نے کہا دنیا کے 195 ممالک ایسے ہیں جہاں MTA کا چینل دیکھا اور سنا جا رہا ہے لیکن دنیا کے کسی اور چینل کی یہ ضمانت نہیں ہے کہ ایک وقت میں تمام بر اعظموں کے 195 ممالک میں ان