خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد ہشتم 128 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 پھر بعض اوقات بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔دوسری نیکیاں بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر ہمارے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔یہاں ایک بات ہمیشہ یادر کھنی چاہئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع میں بیان کی کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں متقی ہو اور اس کے لئے بڑی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ایسے لوگوں کو فکر کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔استغفار پڑھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اگر کہیں بھی کمی ہے تو ہمارے اندر کمی ہے۔ہماری کوششوں میں ہی کمی ہے۔تقویٰ باریک سے باریک نیکیوں کو بجالانے کا، ان کا خیال رکھنے کا نام ہے۔پس اگر کہیں ایسی صورت پید اہو رہی ہے جہاں باوجود تمام محنت اور کوشش کے حالات بھی بد سے بدتر ہو رہے ہوں، تو ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ کاروباری آدمی کے متعلق کاروبار کے سلسلے میں اگر معمولی جھوٹ بھی بولا جائے تو یہ چیز انسان کو تقویٰ سے دور لے جاتی ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ پر توکل کے بھی خلاف ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے انعامات سے فیض پانے کے لئے ہمیں باریک بینی سے اپنے جائزے لینے ہوں گے۔کہ کہیں ہماری باتوں میں جھوٹ کی ملونی تو نہیں؟ کہیں نیت میں کھوٹ تو نہیں؟ جو بھی کام کیا ہے صاف اور کھرا اور قولِ سدید سے کام لیتے ہوئے کیا ہے ؟ قولِ سدید صرف سچائی کا نام نہیں ہے۔بلکہ ایسی سچائی ہے جو واضح طور پر دوسرے کو سمجھ میں آنے والی ہو۔پھر عبادت کا حق ہے۔متقی بننے کے لئے عبادت کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔پس حقیقی متقی وہی ہے جو حقوق اللہ ادا کرنے والا بھی ہو اور حقوق العباد ادا کرنے والا بھی ہو۔اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا حقیقی طور پر گہرائی میں جا کر اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔بعض لوگ بلکہ فی زمانہ تو ایک بہت بڑی تعداد دھو کے سے دولت کما لیتی ہے ، بڑے امیر بن جاتے ہیں اور ظاہر میں بڑی کشائش رکھنے والے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالی کی نظر میں یہ دولت ان کے لئے آگ ہے۔ایک تو اس دنیا میں یہ لوگ بیماریوں کی صورت میں، مقد موں کی صورت میں ، پھر اور تکلیفوں کی صورت میں، بلاؤں کی صورت میں ہر قسم کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں۔اور یہ دولت پھر ان کے لئے بے چینی کا باعث بنتی ہے۔دوسرے آخرت کی آگ ہے۔خدا تعالیٰ اس سے بھی ڈراتا ہے۔پس یہ جو ان کی دولت ہے یہ کوئی قابل رشک چیز نہیں ہے جس کی طرف ہماری نظر ہو ، ایک مومن کی نظر ہو۔بلکہ یہ خوف دلانے والی بات ہے۔لیکن مومن کے لئے جب رزق کا ذکر خدا تعالیٰ فرماتا ہے تو بابرکت رزق کا ذکر فرماتا ہے۔اصل مقصود ایک مومن کا روحانی رزق ہے۔جو ہر چیز پر مقدم ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے اور مرنے کے بعد بھی جو دائی ٹھکانا ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ اپنی رضا کا، اپنی جنتوں کا وعدہ فرماتا ہے۔پس ایک دنیا دار کے معیار اور ایک مومن کے معیار بہت مختلف ہیں۔جس کو خدا تعالیٰ کی رضا مطلوب ہو وہ دنیا کے پیچھے نہیں دوڑتا۔بلکہ دنیاوی مادی رزق کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ مومن کو بغیر حساب کے رزق دینے اور کافر اور دنیا دار کے لئے اس دنیا کی آسائشوں میں ڈوبنے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔