خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 127

خطبات مسرور جلد ہشتم 127 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 خدا تعالیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے۔إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔ہم اس مدعی کو جھوٹا کہیں گے۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حد تک نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں قابلِ وقعت ہو یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے۔لوگوں کے متقی اور ریا کار انسان ہوتے ہیں۔سو ان پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی مار ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے“۔پھر فرمایا کہ ”حضرت داؤد زبور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا، جو ان ہوا۔جوانی سے اب بڑھاپا آیا مگر میں نے کبھی کسی متقی اور خداترس کو بھیک مانگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو دَر بدر دھکے کھاتا اور ٹکڑے مانگتے دیکھا“۔فرمایا ” یہ بالکل سچ اور راست ہے کہ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسروں کے آگے ہاتھ پسارنے سے محفوظ رکھتا ہے بھلا اتنے جو انبیاء ہوئے ہیں، اولیاء گزرے ہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بھیک مانگا کرتے تھے۔یا ان کی اولاد پر یہ مصیبت پڑی ہو کہ وہ در بدر خاک بسر ٹکڑے کے واسطے پھرتے ہوں ہر گز نہیں“۔فرمایا ”میر اتو اعتقاد ہے کہ اگر ایک آدمی باخدا اور سچا متقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدارحمت اور برکت کا ہاتھ رکھتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 182) (الحکم جلد 7 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1903ء صفحہ 5 کالم 1) پس اللہ تعالیٰ کا بننا، تقوی اختیار کرنا بنیادی شرط ہے اور تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش ہر ایک انسان جس کا ایمان لانے کا دعویٰ ہے اس کی اور ہر ایک مومن کی تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش ہونی چاہئے۔تقویٰ کے ساتھ دوسری بنیاد اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا متقی یا متوکل بن کر ایک مومن نہ صرف اپنے رزق کے سامان پیدا کرتا ہے بلکہ اپنی نسلوں کے رزق کے سامان بھی پیدا کرتا ہے۔یہاں بات بھی واضح ہو کہ متقی کی اولا داگر ظلم اور بغاوت پر قائم ہوگی تو پھر اللہ تعالیٰ کا دوسرا قانون چلتا ہے۔اور وہ برکت اور حفاظت کا ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔پس حقیقی متقی کی اولاد اس نیک تربیت کی وجہ سے ، ان دعاؤں کی وجہ سے جو وہ اپنی اولاد کے لئے کرتا ہے، خود بھی تقویٰ پر چلنے کی کوشش کرنے والی ہوتی ہے۔اور اس طرح نیکی کی جاگ کے ساتھ اگلی نسل میں اللہ تعالیٰ کی محبت برکت اور حفاظت کی جاگ بھی لگتی چلی جاتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ کسی قانونِ قدرت کے خلاف نہیں اور نہ واقعات کے خلاف ہیں کہ نوح کا بیٹا کیونکر غرق ہو گیا؟ نوح کے بیٹے نے اس تقویٰ سے حصہ لینے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ بغاوت کی۔اس لئے اپنے انجام کو پہنچا۔لیکن ایک نیک اور متقی شخص کی اولاد اگر شرک کے علاوہ کسی بھی قسم کی کمزوری دکھاتی ہے۔یا نا سمجھی کی وجہ سے مادی رزق میں یا کاروبار میں اُسے کسی قسم کا دھچکا لگتا ہے یا احتمال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے حالات ہی پیدا نہیں کرتا جس کی وجہ سے اس کا اتنا براحال ہو جائے کہ بھوک کے حالات پیدا ہو جائیں بلکہ ان کو جلد سنبھالا دے دیتا ہے اور اگر وہ تقویٰ پر قائم ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے خود بھی دیکھ لیتے ہیں۔