خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 126

خطبات مسرور جلد ہشتم 126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 مارچ 2010 صحابہ جنہوں نے آپ سے روحانی فیض پایا اور اپنی استعدادوں کے مطابق علم و معرفت کے خزانے حاصل کئے۔ان کی فکریں بھی دینی اور روحانی رزق کی تلاش میں ہی تھیں۔اور بعض تو ایسے تھے کہ دنیاوی اور مادی رزق کو خدا کے سپر د کیا ہوا تھا اور اس کوشش میں ہوتے تھے کہ کب ہمیں علم و معرفت کے خزانے آنحضرت صلی نم کی زبانِ مبارک سے سنے کو ملیں۔اور ہم اپنے آپ کو اس رزق سے مالا مال کریں۔جن میں ایک مثال حضرت ابوہریرہ کی ہے جو ہر وقت آنحضرت صلی علیم کے در پر بیٹھے رہتے تھے کوئی فکر نہیں ہوتی تھی۔بھوک اور پیاس سے برا حال ہو جاتا تھا۔لیکن جو علم کا رزق، جو روحانیت کا رزق انہوں نے حاصل کیا وہ آج دیکھیں کہ حضرت ابو ہریرہ کی روایات ہم تک پہنچ کر اس رزق کی تقسیم آج بھی جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گی۔تو یہ لوگ تھے جو اپنے رزق سے جو انہوں نے حاصل کیا فیض پانے والے تھے اور فیض پہنچانے والے تھے۔بے شک صحابہ کی اکثریت کاروباروں اور تجارتوں میں بھی مصروف ہوتی تھی۔لیکن تقویٰ پر چلتے ہوئے ان کی سب سے پہلی اور بڑی خواہش یہی ہوتی تھی کہ وہ روحانیت میں بڑھنے والے ہوں۔اور آنحضرت صلی علی نام کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے ہوں۔اور روحانی مائندوں سے فیض پانے والے ہوں جو آنحضرت صلی علیم پر تازہ بتازہ اترتا تھا۔اور پھر ان میں سے ایسے تھے جو تھوڑا سا کام بھی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس میں ایسی برکت ڈالتا تھا کہ اس کا منافع بے شمار اور بے حساب انہیں دیتا تھا۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ ملک کو ایک دفعہ انہوں نے رزق و برکت میں دعا کے لئے عرض کی۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میرے کاروبار میں ایسی برکت پڑی ہے کہ میں مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا تھا تو وہ سونا بن جاتی تھی۔الشفاء لقاضی عیاض جلد اول باب الرابع فيما الخمره على يديه من المعجزات- فصل فی اجابة دعائہ صفحہ 200 تا 203 مطبع دارالکتب العلمیہ بیروت (2002) پس جب انہوں نے تقویٰ پر قدم مارا، دین کو دنیا پر مقدم کیا تو دنیا ان کی غلام بن گئی۔کئی صحابہ ایسے تھے جو دنیا کے کاروبار بھی کرتے تھے لیکن دنیا کے کیڑے نہیں تھے۔جب ان کی وفات ہوئی تو بعض اوقات انہوں نے کروڑوں کا سونا پیچھے چھوڑا۔پس یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے روحانی رزق کے ساتھ مادی رزق کے بے حساب پانے کے نظارے بھی دیکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی نظر میں۔اس کو خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اُسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ کہاں سے اور کیونکر آتا ہے۔خدا کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا ہے اور بڑا رحیم کریم ہے۔جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہ اسے ہر ذلت سے نجات دیتا اور خود اس کا حافظ و ناصر بن جاتا ہے۔مگر وہ جو ایک طرف دعوی انتقاء کرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے ان دونو میں ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹا