خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 117
خطبات مسرور جلد ہشتم 117 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ بعض باتیں نبی کی زندگی کے بعد پوری ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نبی کی جماعت کے ذریعہ پورا کروانا چاہتا ہے۔اور احمد کی اس بات پر گواہ ہیں کہ بہت ساری پیشگوئیاں جو ہیں وہ پوری ہو رہی ہیں۔اور ہر نیا دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو ظاہر کرتے ہوئے طلوع ہوتا ہے۔پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالفین اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ یہ بات پوری نہیں ہوئی اور وہ بات پوری نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مخالفین کو نظر نہیں آتا کہ کس طرح ہم زمین کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ؟ آنحضرت صلی کم کی زندگی کا ہر دن گواہ ہے کہ کس طرح اسلام آپ کے زمانے میں پھیلتا چلا جار ہا تھا اور مخالفین کے پاؤں سے زمین نکل رہی تھی۔مختلف شہروں کے امیر غریب اسلام میں شامل ہو کر اپنے آپ کو محفوظ حصار میں لا رہے تھے۔اور پھر آنحضرت صلی علیم کی زندگی میں ہی مکہ بھی فتح ہو گیا اور عرب سے باہر بھی اسلام پھیل گیا اور پھر خلافت راشدہ میں اور بعد کے دور میں بھی اسلام پھیلتا چلا گیا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ اس قوم کے لوگوں کو سزا دینی ہے ، وہاں سزا بھی دی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ یا تو لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے اسلام مخالف طاقتوں کی زمین گھٹتی جائے گی یا اللہ عذاب اور آفات کے ذریعہ سے ان پر زمین تنگ کرتا ہے۔ماضی میں بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ کے حکم کو کوئی توڑنے والا نہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے ساتھ ہے تو کون ہے جو اس کی ترقی میں روک بن سکے ؟ پس لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ (الرعد 42) یعنی اس کے فیصلے کو کوئی ٹالنے والا نہیں کہہ کر مومنوں کو یہ حوصلہ بھی دے دیا کہ اگر تم حقیقی رنگ میں خدا تعالیٰ کے بنے رہو تو کوئی وجہ نہیں کہ دشمن سے خوفزدہ ہو۔تبلیغ کا کام تمہارے سپر د ہے وہ کرتے چلے جاؤ۔اور آخر پر فرمایا کہ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (الرعد 42)۔کہ وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔یعنی حساب لینے میں آتا ہے تو فوراً لے لیتا ہے۔یہ نہیں کہ فوری طور پر سزا دے دیتا ہے۔جب فیصلہ کر لیا کہ حساب لینا ہے تو فوری طور پر لیتا ہے۔پھر دوسرے اور کاموں کی طرح نہیں، کسی انسان کی طرح نہیں کہ یہ کام کر لوں، اس کے ساتھ تدبیریں چل رہی ہوتی ہیں اور اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔انا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: 42) کے مضمون کو ایک دوسری جگہ سورۃ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔کہ بَلْ مَتَّعْنَا هَؤُلاء وَ آبَاءَ هُم حَتَّى طَالَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ (الانبیاء : 45) بلکہ ہم نے ان کو بھی اور ان کے آباء واجداد کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا ہے یہاں تک کہ عمر اُن پر دراز ہو گئی۔پس کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں ؟ تو کیا وہ پھر بھی غالب آسکتے ہیں ؟ مسیح محمدی کے ماننے والوں کے لئے خوشخبری پس اگر کسی قوم کی عمر لمبی ہو جائے یا ان کا طاقت کا عرصہ لمبا ہو جائے اور وہ اس وجہ سے تکبر میں مبتلا ہو