خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 116
خطبات مسرور جلد ہشتم 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 ہے کہ خدا تعالیٰ کا سزا دینے کا اپنا طریق ہے۔وہ مالک ہے۔کب اور کس طرح مخالفین کو سزا دینی ہے۔یہ وہ بہتر جانتا ہے۔وہ عالم الغیب ہے۔اس کے علم میں ہے کہ کب سزا کی ضرورت پڑنی ہے اور کس کے لئے پڑنی ہے۔ایک عمومی بات کہنے کے بعد ضروری نہیں کہ وہ ضرور ان سزاؤں کو فوری طور پر لاگو بھی کر دے گا۔سزا جو کہ ایک نشان کے طور پر ہے اس کا مقصد اصلاح ہے۔اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ ان میں سے کون سے ایسے ہیں جو نبی کی مخالفت سے باز آجائیں گے اور اصلاح کر لیں گے اور سزا سے بچ جائیں گے۔اور کون ہیں جن پر سزا کا کچھ حصہ پڑے گا تو وہ اصلاح کی طرف توجہ کریں گے۔اور کتنے ایسے ہیں جو کسی صورت میں بھی باز آنے والے نہیں۔وہ مخالفت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔شرارتوں میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ان پر سزاوار د ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی ! کچھ انذاری وعدے جو تیرے ذریعہ کئے گئے ہیں، بعض لوگوں کے عملوں کی وجہ سے تو فوری دکھا دیں گے۔زندگی میں نظر آجائیں گے۔اور بعض ہو سکتا ہے کہ اے نبی! تیری وفات کے بعد پورے ہوں۔بدر کی جنگ میں ہی دیکھ لیں۔اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ انہوں نے ایمان نہیں لانا تو آنحضرت صلی علیہ یکم نے جہاں جہاں نشان لگائے تھے کہ ابو جہل کی، عتبہ کی ، شیبہ کی لاشیں یہاں پڑی ہوئی ہیں۔عین آپ کی پیشگوئی کے مطابق وہ وہیں قتل کئے گئے اور ان کی موت ٹل نہیں سکی۔(بخاری کتاب المغازی باب دعا النبي صلى ام علی کفار قریش۔۔حدیث 3960) اور بہت سے ایسے تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ایمان لے آنا تھا جیسے ابو سفیان ہیں، عکرمہ ہیں۔یہ ایسے لوگ تھے کہ اسلام کے خلاف جنگوں میں شریک بھی ہوئے اور اس کے باوجو د بچتے رہے۔آخر کار ایمان لے آئے۔اور پھر اسلام کی خاطر لڑے۔اصل کام تبلیغ پس فرمایا اصل کام نبی اور اس کی جماعت کا تبلیغ کرتا ہے۔کسی قوم کو سزا دینا اصل مقصود نہیں ہے۔اصل مقصود ایک خدا کا عبادت گزار بناتا ہے۔پس جو حد سے بڑھے ہوئے ہیں ان کے بارے میں بھی انذاری پیشگوئیاں پوری ہوں گی اور بعض کو چھوٹ بھی دی جائے گی۔لیکن یہ اصولی بات ہے کہ جن عملوں پر انذار کیا گیا ہے وہ نبی کی زندگی میں موجود لوگ کریں یا بعد میں کریں۔اگر اصلاح نہیں کرتے تو ان پر پکڑ ہو گی۔اور کس طرح پکڑ ہو گی؟ یہاں ہو گی یا اگلے جہان میں ہو گی یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔اور یہ بھی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا چیز فائدہ مند ہے کس طرح کی اصلاح کی ضرورت ہے۔فوری پکڑ ضروری ہے یا چھوٹ دینا ضروری ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حساب لینا ہمارے ذمہ ہے۔اعتراض کرنے والے اگر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی، وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر جب خدا تعالیٰ حساب لے گا تو سب واضح ہو جائے گا۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین بھی یہی اعتراض کرتے ہیں۔تو یہی جواب ان کو بھی ہے۔