خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد ہشتم 115 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 شخص دکھ دیتا ہے، یا تو وہ توبہ کر لیتا ہے، یا فنا ہو جاتا ہے۔کئی خط اس طرح کے آتے ہیں کہ ہم گالیاں دیتے تھے اور ثواب جانتے تھے لیکن اب تو بہ کرتے ہیں اور بیعت کرتے ہیں“۔(آج کل بھی بہت سارے لوگوں کے اسی طرح کے خطوط آتے ہیں) صبر بھی ایک عبادت ہے پھر فرمایا کہ: صبر بھی ایک عبادت ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر والوں کو وہ بدلے ملیں گے جن کا کوئی حساب نہیں ہے۔یعنی ان پر بے حساب انعام ہوں گے۔یہ اجر صرف صابروں کے واسطے ہے۔دوسری عبادت کے واسطے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ نہیں ہے۔جب ایک شخص ایک کی حمایت میں زندگی بسر کرتا ہے تو جب اسے دکھ پر دکھ پہنچتا ہے تو آخر حمایت کرنے والے کو غیرت آتی ہے اور وہ دکھ دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے۔اسی طرح ہماری جماعت خدا تعالی کی حمایت میں ہے۔اور دکھ اٹھانے سے ایمان قوی ہو جاتا ہے۔صبر جیسی کوئی شے نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 543,544) آج کے لئے حسیب کے حوالہ سے میں نے گو مضمون منتخب نہیں کیا تھا لیکن بہر حال کچھ نہ کچھ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ایک تو یہی ہے جو بیان ہو گیا ہے جو مومنوں کی ایمانی حالت کی تصویر کشی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ثابت قدم اور صابر مومنین کے لئے مخالفین کی مخالفت انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا باعث بنتی ہے۔اور انہیں حسبنا اللہ کا اور اک دلاتی ہے۔دوسری آیت جو میں اب بیان کرنے لگاہوں بلکہ یہ دو آیات ہیں کہ انبیاء اور ان کی جماعت کا کیا مقصد ہے ؟ اس کے بارے میں بتاتی ہیں کہ جو پیغام نبی پر اترا ہے، اسے کھول کر دنیا تک پہنچا دو اور یہی تمہارا کام ہے۔اس کا حساب لینا کہ مانتے ہیں کہ نہیں مانتے اور نہیں مانتے تو کیا سلوک کرنا ہے ، یہ خد اتعالیٰ کا کام ہے۔اور خدا تعالیٰ حساب لینے میں تیز ہے۔یہ مضمون بھی سورۃ رعد کی ان آیات میں بیان ہوا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ مَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ - أَوَ لَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا وَاللهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (الرعد: 41-42) اور اگر ہم تمہیں ان انذاری باتوں میں سے کچھ دکھا دیں جو ہم ان سے کرتے ہیں یا تجھے وفات دے دیں تو ہر صورت میں تیرا کام صرف کھول کھول کر پہنچا دینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ یقینا ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹائے چلے آرہے ہیں۔اور اللہ ہی فیصلہ کرتا ہے۔اس کے فیصلے کو ٹالنے والا کوئی نہیں۔اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔پہلی آیت جو اکتالیسویں آیت ہے۔اس میں اس سے پہلی آیت کے مضمون کو چلاتے ہوئے بات ہو رہی