خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد ہشتم 114 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 الوكيل ( آل عمران :174) کیونکہ ہم نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ ولیم اور آپ کے صحابہ سے یہی سیکھا ہے۔پس احمدیوں کو ہمیشہ صبر اور برداشت سے بغیر کسی خوف کے ان تکلیفوں کو برداشت کرتے چلے جانا چاہئے۔اور اپنے ایمانوں میں مضبوطی پیدا کرتے چلے جانا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کی اس طرح بھی وضاحت فرمائی ہے۔فرمایا کہ: ان آیات میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ حقیقی شجاعت کی جڑ یہ صبر اور ثابت قدمی ہے اور ہر ایک جذ بہ نفسانی یا بلا جو دشمنوں کی طرح حملہ کرے اس کے مقابل ثابت قدم رہنا اور بزدل ہو کر بھاگ نہ جانا، یہی شجاعت ہے“۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 359) پس یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کا ایک اور مضمون کھولا ہے کہ ظاہری دشمنی کے علاوہ بھی ایک دشمنی ہے اور وہ دشمن ہے جو نفسانی جذبہ ہے۔اور یہ بھی ایک بلا ہے جو دشمن کی طرح حملہ کرتی ہے۔اس کے مقابل پر بھی ثابت قدم رہنا کہ یہی مومنانہ شان ہے۔ظاہری دشمن کے مقابلے کی طاقت تو تب پیدا ہو گی جب نفسانی جذبے کے حملے کا مقابلہ کر سکو گے۔ایمان میں ترقی اس وقت ہوتی ہے جب یہ خیال دل میں رہے کہ سب کچھ خدا کا ہے اور اس کی خاطر ہمارا اٹھنا بیٹھنا ہے۔اگر زمانے کی ہو اوہوس سے مرعوب ہو گئے اور اس رو میں بہ گئے جس میں زمانہ چل رہا ہے تو مخالفین کے ٹولوں اور جان مال کے نقصان کی برداشت کی طاقت بھی نہیں رہے گی۔پس نفسانی دشمن پر بھی قابو پانا اور اس کے سامنے ثابت قدمی دکھانا مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اور پھر یہی چیز جیسا کہ میں نے کہا، ظاہری دشمن کے مقابلے کے لئے بھی طاقت بخشے گی۔اور حسبنا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران :174) کا نعرہ دل سے اٹھے گا اور عرش پر پہنچے گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے حسیب ہونے کے وہ نظارے نظر آئیں گے جس کا تصور بھی انسانی سوچ سے باہر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اس جماعت میں جب داخل ہوئے ہو تو اس کی تعلیم پر عمل کرو۔اگر تکالیف نہ پہنچیں تو پھر ثواب کیونکر ہو۔پیغمبر خدا صلی ا یکم نے مکہ میں تیرہ برس دکھ اٹھائے۔تم لوگوں کو اس زمانے کی تکالیف کی خبر نہیں اور نہ وہ تم کو پہنچیں ہیں۔مگر آپ نے صحابہ کو صبر ہی کی تعلیم دی۔آخر کار سب دشمن فنا ہو گئے۔ایک زمانہ قریب ہے کہ تم دیکھو گے کہ یہ شریر لوگ بھی نظر نہ آئیں گے۔اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ اس پاک جماعت کو دنیا میں پھیلائے۔اب اس وقت یہ لوگ تمہیں تھوڑے دیکھ کر دکھ دیتے ہیں۔مگر جب یہ جماعت کثیر ہو جائے گی تو یہ سب خود ہی چپ ہو جائیں گے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو یہ لوگ دُکھ نہ دیتے اور دکھ دینے والے پیدا نہ ہوتے مگر خدا تعالیٰ ان کے ذریعہ سے صبر کی تعلیم دینا چاہتا ہے۔تھوڑی مدت صبر کے بعد دیکھو گے کہ کچھ بھی نہیں ہے۔جو