خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 105

خطبات مسرور جلد ہشتم 105 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کی ہی دسویں آیت میں فرمایا۔وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعْفًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ ( النساء: 10)۔اور جو لوگ ڈرتے ہیں کہ اپنے بعد کمزور اولاد چھوڑ گئے تو ان کا کیا بنے گا تو ان کو دوسروں کے متعلق بھی یعنی یتیموں کے متعلق بھی ڈر سے کام لینا چاہئے۔اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہئے۔پس یہ قیموں کے حقوق قائم کروانے کے لئے مزید تنبیہ ہے کہ کسی کو اپنی موت کا وقت معلوم نہیں۔اس لئے یتیموں کی پرورش کرتے ہوئے یہ خیال دل میں رہنا چاہئے کہ ہمارے بچے بھی یتیم ہو سکتے ہیں۔اور ان کے ساتھ اگر بدسلو کی ہو تو یہ سوچ کر ہی ہمارے دل بے چین ہو جاتے ہیں۔پس جب اپنے متعلق یہ سوچتے ہیں تو دوسروں کے متعلق بھی اسی طرح سوچو۔یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔پس بچوں کی تربیت کے بارہ میں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔خاص طور پر انہیں جن کے سپر د یتیم بچے کئے گئے ہیں تا کہ وہ معاشرے کا بہترین حصہ بن سکیں۔بعض دفعہ اس کا الٹ بھی ہو جاتا ہے کہ تربیت صرف لاڈ پیار کو سمجھا جاتا ہے۔خاندان کے بزرگ نانا، نانی، دادا، دادی، غلط طریقے پر بچوں کو لاڈ پیار سے بگاڑ دیتے ہیں۔تو یہ طریق بھی غلط ہے۔اصل مقصود ان کی تربیت کر کے ان کو معاشرے کا بہترین حصہ بنانا ہے۔پس اصل چیز یہی ہے کہ یتیم جو بعض لحاظ سے بعض اوقات احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی صلاحیتیں ضائع کر دیتے ہیں ان کی ایسے رنگ میں تربیت ہو کہ وہ انہیں بہترین شہری بنا دے۔معاشرہ کا بہترین فرد بنا دے۔پس نہ زیادہ سختیاں اچھی ہیں ، نہ ضرورت سے زیادہ نرمی۔بلکہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے بچوں کی طرح ان کی تربیت کرناضروری ہے۔اور جس طرح ماں باپ کے سائے تلے رہنے والے بچے کا حق ہے اسی طرح ایک یتیم کا بھی حق ہے۔یتیموں کے حق کے بارہ میں اور ان کی تربیت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں سورہ بقرہ میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَيَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْيَتَى قُلْ إِصْلَاح لَهُم خَيْرُ وَإِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَاعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (البقرة:221) کہ دنیا کے بارہ میں بھی اور آخرت کے بارہ میں بھی۔اور وہ تجھ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ دے ان کی اصلاح اچھی بات ہے اور اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی بند ہی ہیں۔اور اللہ فساد کرنے والے کا اصلاح کرنے والے سے فرق جانتا ہے۔اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ضرور مشکل میں ڈال دیتا۔یقینا اللہ کامل غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔اب یہاں صرف کسی مال والے یتیم کے بارہ میں حکم نہیں دیا گیا۔بلکہ ہر قسم کے کمزور ، غریب، بے وسیلہ یتیم کا ذکر ہے۔یتیم کی اصلاح، اچھی پرورش، اچھی تعلیم بہت عمدہ کام ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو امامہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی علیکم نے فرمایا۔جس نے یتیم بچے یا بچی کے سر پر محض اللہ تعالیٰ کی b