خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد ہشتم 104 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 دوسری بات یہ ہے کہ یہ فرض تم پر خدا تعالیٰ عائد کر رہا ہے۔اس لئے ایک مومن کی حیثیت سے خدا تعالیٰ تمہارے سے یہ عہد لے رہا ہے کہ اگر اس فرض کو پورا نہیں کرو گے اور یتیم کے مال میں غلط تصرف کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں پوچھے گا۔دوسرے لفظوں میں یہ وہی مضمون ہے جو پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبًا کہ اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔پھر اس بات کو مزید کھول کر اللہ تعالیٰ نے سورہ نساء کی ایک دوسری آیت میں تنبیہ فرمائی کہ و اتوا b الْيَتَى اَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَ لَا تَأْكُلُوا اَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ ۖ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا گہیرا (النساء: 3)۔اور یتامی کو ان کا مال دو۔اور خبیث چیزیں پاک چیزوں کے تبادلے میں نہ لیا کرو۔اور ان کے اموال اپنے اموال سے ملا کر نہ کھا جایا کرو۔یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے۔یہاں بھی وہی مضمون دہرایا جارہا ہے۔اور واضح فرمایا کہ اگر تم یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر اپنے مفاد اٹھانے کی کوشش کرو گے تو تمہارا مال اگر پاک بھی ہے تو اس بد نیتی کی وجہ سے وہ خبیث مال بن جائے گا۔اور یہ حرام مال ایک بہت بڑا گناہ کمانا ہے۔تمہیں اس گناہ کی سزا ملے گی۔سورۃ نساء کی ایک آیت میں آگے جاکر اللہ تعالیٰ کی شدت ناراضگی کا اظہار یوں ہوتا ہے۔فرمایا کہ اِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ( النساء: 11) کہ یقیناً وہ لوگ جو یتیموں کا مال از راہِ ظلم کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ جھونکتے ہیں اور یقیناً وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے۔پس یہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے آگ۔اور یہ آگ ان کو اس دنیا میں بھی جلائے گی اور مرنے کے بعد بھی وہ اس آگ میں پڑیں گے۔تو یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم۔کسی شدت سے یتیم جو معاشرہ کا کمزور حصہ ہے، اس کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے تاکہ معاشرے کا امن قائم رہے۔جو لوگ ناجائز طریق پر دوسرے کا مال کھاتے ہیں۔سکون تو انہیں پھر بھی نہیں ملتا۔بے چینی ہی میں رہتے ہیں۔کبھی کسی ناجائز طور پر مال کھانے والے کو آپ پر سکون نہیں دیکھیں گے۔پس اصل چیز اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔اس کے لئے ایک مومن کوشش کرتا ہے اور اسے کوشش کرنی چاہئے۔پھر صرف مالدار یتیموں کی حفاظت کے بارہ میں یہ حکم نہیں ہے کہ کوئی سمجھے کہ جو صرف مال رکھنے والے یتیم ہیں ان کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے اور ان کے مال کی حفاظت کا کہا گیا ہے۔اگر غور کیا جائے تو اس میں ایک عمومی حکم بھی ہے کہ پرورش اور تربیت تمہاری ذمہ داری ہے۔چاہے وہ غریب ہے۔اگر یتیم غریب بھی ہے تب بھی پرورش تمہاری ذمہ داری ہے۔لیکن اگر وہ صاحب جائیداد ہے تو تب بھی یہ تمہاری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی صحیح تعلیم و تربیت، جو ایک یتیم کا حق ہے، وہ تم نے کرنی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کے مال کی بھی حفاظت کر و اور یتیم کی پرورش اس کے مال کے لالچ میں نہ ہو۔بلکہ اس کی یتیمی کی حالت کی وجہ سے ہو۔