خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 98
خطبات مسرور جلد ہشتم 98 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 ”وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں۔اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں۔اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں۔اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ نہ محض مقال سے ان کی کیفیت بیان کروں“۔(یعنی اپنی حالت میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر کے دنیا کو دکھاؤں کہ اس طرح ایک صحیح مومن ہوتا ہے۔صرف باتوں سے نہ ہو۔اور یہی چیز ہے جو ہر احمدی میں پیدا ہونی چاہئے کہ اس کی صرف باتیں نہ ہوں۔تبلیغ کے ساتھ اس کی اپنی حالت بھی ایسی ہو کہ یہ نظر آئے کہ حقیقی مومن بننے کی کوشش کی جارہی ہے)۔فرمایا: ” اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو آب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں۔اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہو گا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے“۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 180) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس اہم مقصد کے حصول کے لئے تمام تر صلاحیتیں اور استعدادیں بروئے کار لانے والے ہوں۔دنیا کے خوف ہم سے دور رہیں دنیا کی لالچیں ہم سے دور رہیں۔اور اس مقصد کے حصول کے لئے ہم کوشش کرتے چلے جائیں جس کے لئے حضرت مسیح موعود آئے تھے اور جس کو ابھی میں نے بیان کیا ہے۔اور حسبى الله اور عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہے۔آمین الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 11 مورخہ 12 مارچ تا 18 مارچ 2010 صفحہ 5 تا 7)