خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 94
خطبات مسرور جلد ہشتم 94 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 نص سے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔وہ ہیرا کیا ہے ؟ سچا خدا۔اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا۔اور سچا ایمان اس پر لانا، اور سچی محبت کے ساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا، اور کچی برکات اس سے پانا۔پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ میں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھوکے مریں اور میں عیش کروں۔یہ مجھ سے ہر گز نہیں ہو گا۔میر ادل ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہے۔ان کی تاریکی اور تنگ گزرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے میں کہ ان کے دامن استعداد پر ہو جائیں“۔( اربعین نمبر 1 ، روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ 343 تا 345) یہ دیکھیں آپ نے کس عاجزی سے دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے دنیا کی بھلائی کے لئے جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔دنیا کے حق کو پہچاننے کے لئے کس درد کا آپ نے اظہار فرمایا ہے تا کہ وہ تباہی سے بچیں۔پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا ( النساء: 87) کہ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔یہ تو خد اتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس طرح ان مخالفین کا حساب لیتا ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات نہ ماننے والے ہیں بلکہ صرف بات نہ ماننے والے ہی نہیں بلکہ مخالفت میں بڑھے ہوئے ہیں اور حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں۔لیکن اگر مسلمان غور کریں اور جن مشکلات اور آفات سے گزر رہے ہیں اور بعض جگہ ذلت و رسوائی کا بھی انہیں سامنا ہے۔یہ بات ضرور خوف پیدا کرے گی بشر طیکہ غور کرنے کی عادت ہو اور عقل بھی ہو کہ کہیں اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ نے حساب لینا تو شروع نہیں کر دیا؟ باوجود خیر امت ہونے کے ہم غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے والے بن گئے ہیں۔اور اس وجہ سے اسلام مخالف قوتیں مسلمانوں سے اور مسلمان حکومتوں سے اپنی مرضی کی باتیں منواتی چلی جارہی ہیں۔غلبہ اسلام ہم احمدیوں کو یہ تو یقین ہے کہ غلبہ انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کا ہی ہونا ہے اور ہو نا بھی آنحضرت لی لی نام کے عاشق صادق کے ذریعہ سے ہی ہے۔لیکن مسلمانوں کو شدت سے توجہ دلانا بھی احمدیوں کا کام ہے۔یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ مسیح محمدی کے اس عاجزی اور امن اور سلامتی کے پیغام کو سمجھیں۔مسیح محمدی کے نیک جذبات اور پیغام کو سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں بڑھ کر ان جذبات کو لوٹائیں اور لوٹانا یہی ہے کہ مسیح محمدی کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری ہو۔اور یہ جیسا کہ میں نے کہا صرف اس صورت میں ممکن ہے۔اور کامل اطاعت بھی اس صورت میں ہو گی جب اس کی جماعت میں شامل ہوں گے۔پھر دیکھیں کہ مسلمانوں کو کس قدر طاقت ملتی ہے ؟ پھر دیکھیں کہ ان کا کھویا ہوا و قار کس طرح قائم ہوتا ہے ؟ اور اسلام کا محبت اور بھائی چارے کا پیغام کس تیزی سے