خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 91
خطبات مسرور جلد ہشتم 91 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 ایک دوسرے سے ملنے پر السلام علیکم کہنے کا حکم ہے کہ تم پر سلامتی ہو۔یعنی تم ہر قسم کی پریشانیوں اور مشکلات سے محفوظ رہو۔اب یہ دعا ایسی ہے کہ اگر دل کی گہرائی سے دوسرے کو دی جائے تو پیار ، محبت اور بھائی چارے کے جذبات ابھرتے ہیں۔تمام قسم کی نفرتیں دُور ہوتی ہیں۔اسی طرح جسے سلام کیا جائے اسے حکم ہے کہ تم ان سلامتی کے الفاظ کا ان جذبات کا بہتر رنگ میں جواب دو اور بہتر شکل کیا ہے۔یہ کہ جب انسان و علیکم السلام جب انسان کہتا ہے تو اس کے لئے ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بھی کہے کہ تم پر اللہ کی رحمتیں بھی ہوں اور برکتیں بھی ہوں۔یا فرمایا کہ کم از کم اتنا ہی اظہار کر دو جتنا تمہیں سلام میں پہل کرنے والے نے کیا ہے تو یہ عمل تمہیں جزا پہنچائے گا۔پس یہ ایک ایسا اصول ہے جو معاشرے میں امن پیدا کرتا ہے۔آنحضرت صلی یکم نے بڑے زور سے اور بڑی شدت سے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ سلام کو رواج دو۔( صحیح بخاری کتاب الاستئذان باب افشاء السلام حدیث نمبر 6235) اور صحابہ اس بارہ میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علم کو اس بارہ میں اتنا خیال رہتا تھا اور کس طرح آپ سلام کے رواج کے لئے صحابہ کی تربیت فرماتے تھے، اس کا اظہار بعض احادیث سے ہوتا ہے۔حضرت گلد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ مجھے صفوان بن امیہ نے آنحضرت صلی عوام کی خدمت میں دودھ ، ہرن کے بچے کا گوشت اور لکڑیاں دے کر بھیجا کہ آنحضرت صلی یہ کام کی خدمت میں یہ تحفہ دے دو۔میں حضور علی ایم کے پاس بلا اجازت اور بغیر سلام کہے چلا گیا۔آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے باہر جاؤ۔پھر السلام علیکم کہہ کر اندر آنے کی اجازت مانگو تو پھر تم اندر آسکتے ہو۔( سنن ابی داؤد کتاب الادب باب کیف الاستئذان حدیث 5176) آپ صلی میں ہم نے یہ نہیں سوچا کہ چھوٹا ہے اگر اندر آ گیا تو کوئی حرج نہیں۔بلکہ فوری تربیت فرمائی کہ اعلیٰ اخلاق ابتدا سے ہی بچوں کے ذہنوں میں پیدا کرنے ہیں۔ایک تو یہ کہ بلا اجازت کسی کے گھر میں نہیں جانا۔ہمیشہ اجازت لے کر جانا چاہئے۔دوسرے اجازت کا بہترین طریق جو ہے وہ سلام کرنا ہے۔ایسے طریق سے اجازت چاہو جس سے محبت کی فضا پیدا ہو۔جس سے ایک دوسرے کے لئے تمہارے دل سے دعائیں نکلیں اور تمہیں بھی دعائیں ملیں اور یہ آپس میں دعاؤں کا سلسلہ چلے۔جب ایک سلام کرنے والا دوسرے کو سلام کرتا ہے تو دوسرے شخص کی طرف سے بھی وہی سلام لوٹایا جاتا ہے۔تو یہ دعاؤں کا سلسلہ ہے۔پھر آپ نے صحابہ کی مجبوری کے پیش نظر جب صحابہ کو بازار میں بیٹھنے کی اجازت دی تو راستے کے جو حقوق ہیں ان میں اس حق کے حکم کی بھی خاص طور پر تلقین فرمائی کہ پھر آنے جانے والوں کو سلام کرو۔( صحیح بخاری کتاب الاستئذان باب قول اللہ تعالیٰ یا ایھا الذین امنوالا تدخلوا بيوتا۔۔حدیث نمبر 6229)