خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد ہشتم 90 8 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 فروری 2010ء بمطابق 19 تبلیغ 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ایک لفظ حسیب ہے جس کے معنی لغات میں لکھے ہوئے ہیں ، کہ حساب کرنے والا یا حساب لینے والا۔کافی اور حساب کے مطابق بدلہ لینے والا۔یہ تمام خصوصیات کامل طور پر تو دنیا کے کسی انسان میں نہیں پائی جاسکتیں۔اگر ان باتوں میں کوئی کامل ذات ہو سکتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت الحسیب ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس میں یہ بیان کردہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اور وہی ہے جو ہماری مختلف حالتوں کے پیش نظر اپنی اس صفت کا حسب ضرورت اظہار فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں کئی آیات میں اس صفت کا اظہار فرمایا ہے۔اس وقت میں چند آیات پیش کروں گا جن میں اللہ تعالٰی کے الحسیب ہونے کی صفت کا اظہار مختلف احکامات کے ساتھ یا تنبیہ کرتے ہوئے ہوا ہے۔سب سے پہلے سورۃ نساء کی آیت نمبر 87 پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا حُيْيْتُمْ بِتَحِيَّةِ فَحَيوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا ( النساء: 87۔اور اگر تمہیں کوئی خیر سگالی کا تحفہ پیش کیا جائے تو اس سے بہتر پیش کیا کر دیا وہی لوٹا دو۔یقیناً اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔اس آیت میں اسلامی احکامات کا ایک ایسا بنیادی حکم دیا گیا ہے جو نہ صرف اپنوں سے اچھے تعلقات کی ضمانت ہے بلکہ غیر وں کے ساتھ تعلقات کے لئے اور ان تعلقات میں وسعت پیدا کرنے کے لئے ایک بیمثال نسخہ ہے۔اس آیت میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لئے نیک جذبات کے اظہار کی نہ صرف تلقین فرمائی بلکہ فرمایا کہ اگر ملنے پر ایک شخص تمہارے لئے نیک جذبات کا اظہار کرے۔تمہیں سلام کہے۔ایک ایسی دعا تمہیں دے جو تمہاری دین و دنیا سنوار نے والی ہو تو تمہارا بھی فرض ہے کہ اس سے بڑھ کر اظہار کرو اور فرمایا کہ یہ تمہارا ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی فرض ہے کہ اگر اس کو انجام نہیں دو گے تو خد اتعالیٰ کے سامنے تمہیں اس کا جواب دینا ہو گا۔یہ خوبی صرف اسلام میں ہے کہ ایک دوسرے سے ملنے کے وقت ایسے با مقصد الفاظ کے ساتھ جذبات کا اظہار ہے اور