خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 86
خطبات مسرور جلد ہشتم 86 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 خوب جانتا تھا کہ اس مقام پر مدت سے میرے سوا کوئی اور آدمی نہیں رہا اور نہ کوئی آیا۔لہذا میں نے اسے خدائی عطیہ سمجھ کر لے لیا اور شکر کیا کہ بہت دنوں کے لئے یہ کام دے گا۔(ماخوذ از حیات نور صفحہ 516-515۔جدید ایڈیشن۔مطبوعہ ربوہ) حضرت حافظ روشن علی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا۔سبق کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے کھانے کا وقت گزر گیا۔(اس فکر میں تھے کہ کہیں میں چلا گیا تو حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی کلاس نہ شروع ہو جائے، آپ پڑھایا کرتے تھے)۔حتی کہ ہمارے حدیث کا سبق شروع ہو گیا۔میں اپنی بھوک کی پرواہ نہ کر کے سبق میں مصروف ہو گیا اور کہتے ہیں کہ میں ابھی سبق پڑھنے والے طالب علم کی آواز سن رہا تھا اور سب کچھ دیکھ بھی رہا تھا کہ یکا یک سبق کی آواز جو تھی مدھم ہو گئی اور میرے کان اور آنکھیں باوجود بیداری کے سننے اور دیکھنے سے رہ گئے۔اس حالت میں میرے سامنے کسی نے تازہ بتازہ تیار ہوا ہوا کھانا رکھ دیا۔گھی میں تلے ہوئے پر اٹھے اور بھنا ہوا گوشت تھا۔میں نے خوب مزہ لے لے کر کھانا کھایا۔جب میں سیر ہو گیا، پیٹ بھر گیا تو پھر میری یہ حالت منتقل ہو گئی۔واپس اسی پہلی حالت میں آگیا اور مجھے پھر سبق کی آواز سنائی دینے لگی۔مگر اس وقت بھی میرے منہ میں کھانے کی لذت موجود تھی اور میرے پیٹ میں سیری کی طرح کھانا کھانے کے بعد جو بو جھل پن ہوتا ہے وہ بھی تھا۔اور اسی طرح لگ رہا تھا کہ یہ کھانا کھانے سے مجھے بالکل تازگی ہو گئی ہے جیسی کہ عموماً ظاہری کھانا کھانے سے ہوتی ہے۔جبکہ میں کہیں گیا بھی نہیں تھا اور نہ کسی نے مجھے کھانا کھاتے دیکھا ہے۔(ماخوذ از حیات نور صفحہ 290-289) تو یہ بھی ایک نظارہ تھا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک جگہ اسی حوالے سے اس نظارے کو بیان فرمایا ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بیان کیا کہ میری موجودگی کا واقعہ ہے کہ گورداسپور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مقدمہ کے تعلق میں قیام فرما تھے۔( بہت سارے لوگ آتے تھے اور کھانا بھی پکایا جاتا تھا) تو باورچی نے دیکھا۔جتنے دوست موجود تھے ان کی تعداد کے مطابق کھانے کا انتظام کیا گیا۔لیکن پھر اور مہمان آگئے ، اندازے سے زیادہ مہمان آگئے اور کھانا پھر بھی کفایت کر گیا (پورا ہو گیا)۔تو اس نے صبح کے کھانے کے متعلق یہ ماجر احضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کر کے کہ کیا اتنا ہی کھانا گل بھی پکانا ہے جتنا آج پکا یا تھا یا زیادہ پکاؤں ( کیونکہ مہمان زیادہ آگئے تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کیا تم خدا تعالیٰ کا امتحان کرنا چاہتے ہو ؟ (ماخوذ از اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ 228 227 مطبوعہ قادیان) اللہ تعالیٰ نے اس وقت عزت رکھ لی اب تم زیادہ کھانا تیار کرو۔تو یہ بھی جو اللہ تعالیٰ کی مدد آئی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کو آزمایا جائے۔