خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 85
خطبات مسرور جلد ہشتم 85 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 ہے۔میں نے جواب دیا کہ میں رام پور لکھنو اور بھوپال کے عالموں کو جانتا ہوں ان کو نہیں جانتا۔اس پر کہا کہ وہ بھی قائل نہیں۔تب میں نے کہا کہ بہت اچھا پھر ہم اب تین ہو گئے۔پھر مولوی صاحب کہنے لگے کہ یہ سب بدعتی ہیں۔امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جو نسخ کا قائل نہیں وہ بدعتی ہے۔تو میں نے کہا تم دو ہو گئے۔میں ناسخ و منسوخ کا ایک آسان فیصلہ آپ کو بتاتا ہوں، تم کوئی آیت پڑھ دو جو منسوخ ہو۔اس کے ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ ان پانچ آیتوں میں سے پڑھ دے تو کیا جواب دوں گا۔خدا تعالیٰ ہی سمجھائے تو بات بنے۔فکر پیدا ہوئی۔(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے سے پہلے کا قصہ ہے)۔اس نے ایک آیت پڑھی میں نے کہا کہ فلاں کتاب میں جس کے تم بھی قائل ہو اس کا جواب دیا ہے۔کہنے لگا ہاں۔پھر میں نے کہا اور پڑھو تو خاموش ہی ہو گیا۔علماء کو یہ وہم رہتا ہے کہ ایسانہ ہو کہ ہتک ہو۔اس لئے اس نے یہی غنیمت سمجھا کہ چپ رہے۔(ماخوذ از مرقاة الیقین فی حیات نور الدین۔مرتبہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی۔صفحہ 126-125) لیکن آج کل کے بیچارے علماء کا یہ حال نہیں۔ڈھٹائی کی انتہا ہوئی ہوتی ہے۔ویسے بعد میں تو ان کا بھی یہی حال تھا۔انہی مولوی محمد حسین بٹالوی کی آگے جاگ چل رہی ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرماتے ہیں کہ میرا خدا ہمیشہ میر اخزانچی رہا ہے۔یہ تو کل کی بھی ایک مثال ہے کیونکہ میرا تو کل ہمیشہ خدا پر رہا ہے اور وہی قادر ہر وقت میری مدد کرتارہا ہے۔چنانچہ ایک وقت مدینہ میں میرے پاس کچھ نہ تھا حتی کہ رات کو کھانے کے لئے بھی کچھ نہ تھا۔جب نماز عشاء کے لئے وضو کر کے مسجد کو چلا۔تو راستے میں ایک سپاہی نے مجھ سے کہا کہ ہمارا افسر آپ کو بلاتا ہے۔میں نے نماز کا عذر کیا، پر اس نے کہا میں نہیں جانتا میں تو سپاہی ہوں۔حکم پر کام کرتا ہوں۔آپ چلیں ورنہ مجھے مجبوراً لے جانا ہو گا۔ناچار میں اس کے ہمراہ ہو گیا۔وہ ایک مکان پر مجھے لے گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک امیر افسر سامنے جلیبیوں کی بھری ہوئی رکابی رکھ کے بیٹھا ہے۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کیا کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اسے جلیبی کہتے ہیں۔کہا کہ ایک ہندوستانی سے سن کر میں نے یہ بنوائی ہیں۔خیال کیا کہ اس کو پہلے کسی ہندوستانی کو ہی کھلاؤں گا۔چنانچہ مجھے آپ کا خیال آگیا۔اس لئے میں نے آپ کو بلوایا اب آپ آگے بڑھیں اور کھائیں۔میں نے کہا نماز کے لئے اذان ہو گئی ہے۔فرصت سے نماز کے بعد کھاؤں گا۔کہا مضائقہ نہیں۔ہم ایک آدمی کو مسجد بھیج دیں گے کہ تکبیر ہوتے ہی آکر کہہ دے۔خیر کھا کر میرا پیٹ بھر گیا تو ملازم نے اطلاع دی کہ نماز تیار ہے اور تکبیر ہوچکی ہے۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے کھانے کا انتظام کیا۔پھر فرماتے ہیں کہ دوسری صبح ہی جب میں اپنا بستہ صاف کر رہا تھا اور اپنی کتابیں الٹ پلٹ کر رہا تھا تو ناگہاں ایک پاؤنڈ مل گیا۔چونکہ میں نے کبھی کسی کا مال نہیں اٹھایا اور نہ کبھی مجھے کسی کا روپیہ دکھلائی دیا اور میں یہ