خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 84
84 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 خطبات مسرور جلد هشتم کے دربار میں داخل ہو کر بلند آواز سے السلام علیکم کہتے جو کہ آداب دربار کے خلاف تھا کہ اتنی اونچی آواز میں السلام علیکم کہا جائے۔اس طرح آپ نواب صاحب کے آگے تعظیم کے لئے جھکتے بھی نہیں تھے۔درباری لوگوں کا یہ رواج تھا کہ جب کوئی دربار میں داخل ہو تو بڑے ادب سے داخل ہو اور آگے بڑا جھک کے اور بڑی آہستگی سے سلام کرو۔جب ڈاکٹر صاحب کو توجہ دلائی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں سوائے خدا کے اور کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔نواب صاحب نے تبدیلی اور سخت اقدامات کی دھمکی دی کہ آپ کو تبدیل کر دوں گا اور بھی سخت اقدامات کروں گا۔یہ ڈاکٹر تھے۔سرکاری ملازم تھے۔تو آپ نے فرمایا کہ میرے خدا کے ہاتھ میں آپ کی گردن ہے۔جب چاہے آپ کو اس منصب سے ہٹا سکتا ہے اور نواب صاحب کے دربار میں اس کو چیلنج کر دیا اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔حضرت ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے عریضہ لکھا جس کے جواب میں حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ”محبی عزیزی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔آپ کا کارڈ پہنچا۔میں انشاء اللہ آپ کے لئے دعا کروں گا۔مگر آپ نہایت استقامت سے اپنے تئیں رکھیں۔کم دلی ظاہر نہ ہو۔خدا تعالیٰ کا فضل ہر جگہ پر درکار ہے۔مسافرت اور غربت میں دعا اور تضرع سے بہت کام لینا چاہئے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا نے وہ اثر دکھایا کہ نواب رام پور کو انگریزی ریذیڈنٹ کی سفارش پر حکومت ہند نے دماغی مریض ثابت ہونے پر نا اہل قرار دے دیا اور معزول کر دیا۔جو شخص ڈاکٹر صاحب کی تبدیلی اور فراغت کی دھمکیاں دے رہا تھا با وجو د صاحب اقتدار ہونے کے خود ہی بیچارہ معزول ہو گیا۔ماخوذ از سیرت و سوانح حضرت حافظ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مصنفہ حنیف احمد محمود صفحہ 70) حضرت خلیفہ المسیح الاول بیان کرتے ہیں کہ ایک زمانہ میں میں لاہور کے سٹیشن پر شام کو اترا۔بعض اسباب ایسے تھے کہ چینیاں والی مسجد میں گیا تو شام کی نماز کے لئے وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھائی میاں علی محمد نے مجھ سے کہا کہ جب عمل قرآن مجید اور حدیث پر ہوتا ہے تو ناسخ و منسوخ کیا بات ہے۔(غیر احمدیوں کا نظریہ ہے ناں کہ کچھ آیتیں منسوخ ہیں)۔تو میں نے ان کو کہا یہ کچھ نہیں ہیں۔وہ پڑھے ہوئے نہیں تھے گو میر ناصر کے استاد تھے۔ان کا دینی علم زیادہ نہیں تھا۔انہوں نے اپنے بھائی سے ذکر کیا ہو گا۔مولوی محمد حسین بٹالوی یہ ان دنوں جوان تھے اور بڑا جوش تھا۔یہ خلیفہ اول کی بیعت سے پہلے کی بات ہے۔تو کہتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا اور وہ مولوی صاحب جوش سے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو انہوں نے کہا ادھر آؤ تم نے میرے بھائی کو کہہ دیا کہ قرآن میں ناسخ و منسوخ نہیں ہیں۔میں نے کہا ہاں نہیں ہیں۔تب بڑے جوش سے کہا کہ تم نے ابو مسلم اصفہانی کی کتاب پڑھی ہے ؟ وہ احمق بھی قائل نہ تھا۔حضرت خلیفہ اول کہتے ہیں میں نے کہا پھر تم ہم دو ہو گئے۔پھر اس نے کہا کہ سید احمد کو جانتے ہو ؟ مراد آباد میں صدر الصدور