خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 83
خطبات مسرور جلد ہشتم 83 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 فروری 2010 قادیان کے تمام مقامات دکھائے مگر پادری آخر پادری ہوتے ہیں وہ بھی طنز یہ بات کرنے سے نہیں رہ سکا۔ان دنوں قادیان میں ابھی ٹاؤن کمیٹی وغیرہ نہیں تھی اور ویسے بھی ہمارے ہند و پاکستان کے چھوٹے گاؤں اور قصبے جو ہیں وہاں گلیوں میں بعض دفعہ بلکہ اکثر گند نظر آتا ہے۔یعنی گلیوں میں بہت گند پڑا رہتا تھا۔پادری زویمر باتوں باتوں میں ہنس کر کہنے لگا کہ ہم نے قادیان بھی دیکھ لیا اور نئے مسیح کے گاؤں کی صفائی بھی دیکھ لی۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اسے ہنس کے کہنے لگے پادری صاحب! ابھی پہلے مسیح کی ہی ہندوستان پر حکومت ہے اور یہ اس کی صفائی کا نمونہ ہے۔نئے مسیح کی حکومت ابھی قائم نہیں ہوئی۔اس پر وہ بہت شرمندہ ہوا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 89 مطبوعہ ربوہ) پیر سراج الحق صاحب نعمانی حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ منشی ظفر احمد صاحب ساکن کپور تھلہ اور ایک شاگر دیا مرید مولوی رشید احمد گنگوہی میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی وفات وحیات کے متعلق گفتگو ہوئی۔اس گفتگو میں تو مولوی صاحب کا مرید ناکام رہا کہ حیات مسیح علیہ السلام ثابت کر سکے۔مگر گفتگو اس پر آٹھہری کہ اتنی لمبی عمر کسی انسان کی پہلے ہوئی ہے ؟ یعنی 120 سال۔اور اب ہو سکتی ہے کہ نہیں۔اس میں بھی وہ لاجواب رہا۔انہوں نے دلیلیں دیں۔آخر کار اس نے ایک خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھا۔مولوی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ ہاں اتنی لمبی عمر ، 120 سال ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ عمر بھی ہو سکتی ہے۔بلکہ عیسی تو دوہزار سال سے آسمان پر بیٹھے ہیں۔( مولوی صاحب کی دلیل ذرا سنیں کہ) دیکھو حضرت آدم کے وقت سے شیطان اب تک زندہ چلا آتا ہے اور کتنے ہزار برس ہو گئے۔اس کے جواب میں منشی ظفر احمد صاحب نے فرمایا کہ ذکر تو انسانوں کی عمر کا تھا نہ کہ شیطان کا۔کیا نعوذ باللہ حضرت مسیح شیطانوں میں سے تھے جو شیطانوں کی عمر کی مثال دی ہے اور یہ بھی ایک دعویٰ ہے۔یہ تمہارا دعویٰ ہے۔مولوی رشید احمد صاحب دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں سمجھتے تھے۔( ایک دعویٰ ہوتا ہے ایک دعوی کے بعد اس کی سچائی کے لئے دلیل دی جاتی ہے۔تو دعویٰ اور دلیل میں فرق ہے۔کہتے ہیں مولوی صاحب دعویٰ اور دلیل کا فرق نہیں سمجھتے تھے کہ اس پر کیا دلیل دی ہے کہ وہی شیطان آدم والا اب تک زندہ ہے اور اس کی اتنی بڑی لمبی عمر ہے۔منشی صاحب موصوف کے اس جواب کو سن کر مولوی رشید صاحب کو ان کے مرید نے پھر ایک خط لکھا کہ مولوی صاحب یعنی منشی ظفر احمد صاحب یہ جواب دے رہے ہیں۔تو مولوی رشید صاحب نے ان کو (اپنے مرید کو ) جواب دیا کہ تمہارا مقابل مرزائی ہے اس سے کہہ دو کہ ہم مرزائی سے کلام نہیں کرتے اور تم بھی مت ملو۔(ماخوذ از اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ 50۔مطبوعہ قادیان) تو یہ تو ہے نام نہاد علماء کا قصہ۔آج بھی پہلے بھی اور کل بھی رہے گا۔حافظ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے متعلق بیان کیا جاتا ہے۔روایت ہے کہ ڈاکٹر صاحب رام پور