خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 52

خطبات مسرور جلد ہشتم 52 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 جنوری 2010ء بمطابق 29 صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) وو تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے خطبہ الہامیہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی اور فرمایا كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّم (خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 310 حاشیہ ) یعنی نبی کریم صلی علیم نے تمہیں اپنی روحانیت کی تاثیر کے ذریعہ سکھایا اور اپنی رحمت کا فیض تیرے دل کے برتن میں ڈال دیا تا تجھے اپنے صحابہ میں داخل کریں اور تجھے اپنی برکت میں شریک کریں اور تا اللہ تعالیٰ کی خبر واخَرِيْنَ مِنْهُمْ اس کے فضل اور اس کے احسان سے پوری ہو۔پس اس فیض نے آپ کو جہاں روحانی نور سے منور کیا وہاں ظاہری نور بھی عطا فرمایا تا کہ نیک فطرت ہر لحاظ سے اس نور سے فیضیاب ہو سکیں۔کیونکہ آخرین کا امام ہونے کی وجہ سے صرف عام صحابہ کا نور آپ کو عطا نہیں ہوا تھابلکہ اس سے بہت بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے آقا کے حسن و احسان میں نظیر بنایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”جیسا کہ یہ جماعت مسیح موعود کی صحابہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کی جماعت سے مشابہ ہے ایسا ہی جو شخص اس جماعت کا امام ہے۔(یعنی حضرت مسیح موعود) وہ بھی ظلتی طور پر آنحضرت صلی الی یکم سے مشابہت رکھتا ہے۔جیسا کہ خود آنحضرت صلی یکم نے مہدی موعود کی صفت فرمائی کہ وہ آپ سے مشابہ ہو گا “۔(ایام الصلح روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 307) پس یہ مشابہت ضروری ہے تا کہ آقا کا جلوہ غلام میں بھی نظر آئے۔آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ ا والسلام کے حسن اور نور اور آپ کے شمائل کا کچھ ذکر کروں گا۔الصلوة سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ آپ کے ظاہری حسن اور خلیے کو کس طرح دیکھتے تھے۔