خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 605

خطبات مسرور جلد ہشتم 605 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 رکھے ہوئے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے دعویٰ کے بعد ہر قسم کی سختیوں سے گزرنا پڑا لیکن آپ نے نہ صرف خود ہمیشہ حوصلے اور صبر کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنے اصحاب کو بھی یہی کہا کہ اگر میرے ساتھ منسلک ہوئے ہو تو پھر وہ نمونے قائم کرنے ہوں گے جن کا اسوہ آنحضرت صلی علی کریم نے قائم فرمایا تھا اور جس پر چلتے ہوئے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کی تھی۔اس وقت میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے بعض واقعات پیش کروں گا کہ کس طرح آپ علیہ السلام نے مختلف مواقع پر چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر بڑی باتوں تک صبر کانمونہ دکھایا۔اپنے ماننے والوں کو بھی اس کی نصیحت کی اور بڑی سختی سے اس بارہ میں عمل کرنے کے لئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو براہ راست بھی مختلف وقتوں میں الہاما اس اہم امر کی طرف توجہ دلائی کہ صبر اور اعلیٰ اخلاق کا دامن ہمیشہ پکڑے رہنا اور چاہے جو بھی حالات ہو جائیں، دشمن چاہے جیسی بھی ذلیل اور گھٹیا حرکتیں کرے، نقصان پہنچانے کے چاہے جتنے بھی حیلے اور وسیلے تلاش کئے جائیں اور عملاً نقصان پہنچائے، تمہارا صبر اور استقامت کا دامن کبھی نہیں چھوٹنا چاہئے۔دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے چلے جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے انتظار میں رہو۔اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ابتلا اور آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے وہ بندے اُن کو اللہ کی خاطر برداشت کرتے ہیں۔چنانچہ براہین احمدیہ میں آپ علیہ السلام نے اس بارہ میں اپنے ایک الہام کا ذکر فرمایا ہے۔اُس کے الفاظ یوں ہیں کہ الْفِتْنَةُ هُهُنَا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ إِلَّا إِنَّهَا فِتْنَةٌ مِّنَ اللهِ لِيُحِبّ حُبَّاجَمَّا حُبًّا مِّنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْأَكْرَمِ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذِ۔اس جگہ فتنہ ہے۔پس صبر کر جیسے اولوالعزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔خبر دار ہو۔یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ ایسی محبت کرے جو کامل محبت ہے۔اُس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے۔وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔(یعنی کبھی وہ ختم نہیں ہوتی۔(براہین احمدیہ حصہ سوم روحانی خزائن جلد اول صفحہ 610-609 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) پس نبوت کے دعوے سے بھی پہلے، بیعت لینے سے بھی پہلے بلکہ ابتدا میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کے اعلیٰ خُلق کی جو تلقین فرمائی تھی اس کا اظہار اور اس پر عمل آپ کی زندگی کے آخری لمحہ تک جاری رہا۔جس کی بعض مثالیں جیسا کہ میں نے کہا میں پیش کروں گا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ 1898ء میں مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا ایک گالیوں کا بھر اہوار سالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور بھیجا۔اپنی رپورٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے 27 جولائی 1898ء کے الحکم میں اس کیفیت کو درج کر دیا ہے۔کہتے ہیں کہ آج قریباً تیس سال ہوئے جب اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوصلہ، ضبط نفس اور توجہ الی اللہ پر غور کرتے ہوئے پڑھتا ہوں تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل جاتے ہیں۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از مولانا یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ 463-462)