خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 604

خطبات مسرور جلد ہشتم 604 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010ء بمطابق 26 نبوت 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: گزشتہ خطبہ میں میں نے صبر کے عظیم خُلق کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ کم کی تعلیم، آپ صلی الم کا اسوہ حسنہ اور صحابہ علیہم السلام کی چند مثالیں نمونے کے طور پر پیش کی تھیں۔یہ اعلیٰ خُلق جس کے اپنانے کی آنحضرت صلی الم نے اپنے ماننے والوں کو تلقین فرمائی اور سب سے بڑھ کر اپنا اسوہ پیش کیا، اس لئے تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة:46) پر عمل کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کی مددصبر کا اعلیٰ نمونہ دکھاتے ہوئے اور دعاؤں کے ذریعے وہی لوگ چاہ سکتے ہیں جن کو خد اتعالیٰ پر کامل ایمان ہو ، اس پر تو کل ہو۔اس یقین پر قائم ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے صبر اور خالص ہو کر اس کے آگے جھکنے کی وجہ سے ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔پس آنحضرت صلی ای کم سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو اس بات کا ادراک اور ایمان رکھتا ہو، یقین رکھتا ہو۔اور پھر آپ کی قوت قدسی سے صحابہ کو یہ ادراک اور ایمان حاصل ہوا۔پس انہوں نے اپنے اس عمل کی وجہ سے مختلف موقعوں پر یہ نظارے دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کس طرح ان کے شامل حال رہی۔اس زمانے میں آنحضرت صلی این ایم کے عاشق صادق سے بڑھ کر اور کون اس بات کا فہم اور ادراک رکھ سکتا ہے کہ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة کی روح کیا ہے ؟ اور یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اصحاب میں پیدا کرنے کی کوشش فرمائی اور پیدا کی۔مختلف ارشادات اور تحریرات کے ذریعے اپنی جماعت کی تربیت کے لئے اُن کو اس خُلق پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔صبر اور حضرت مسیح موعود کا نمونہ پس آج آنحضرت صلی اللہ نیم کے عاشق صادق کی یہ جماعت ہے جو اس تربیت کی وجہ سے صبر و استقامت کے نمونے دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے صرف اور صرف اسی کے حضور اپنے دل کی حالت پیش کرتی ہے۔اور یہ سب عملی رنگ میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کر کے دکھایا اور اس تربیت کا یہی اثر اب تک جماعت میں چلتا چلا آرہا ہے کہ جماعت اس اُسوہ کو، اس اہم خُلق کو قائم