خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 487
487 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کوششوں میں کمی کرتے ہیں، نہ ہی اپنی دعاؤں میں کمی کرتے ہیں ، نہ ہی اپنے اعمال اور اپنی قربانیوں پر انحصار کرتے ہیں بلکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی خشیت دل میں قائم رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔اور کبھی یہ خیال دل میں نہیں لاتے کہ جو کچھ انعامات ہمیں مل رہے ہیں، یہ ہماری کسی کوشش کا نتیجہ ہیں۔یہی سبق ہمیں ان آیات میں ملتا ہے جن کی میں نے تلاوت کی ہے۔ابوالا نبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مثال دے کر ، ان کا واقعہ بیان کر کے خدا تعالیٰ نے ہمیں اسی طرف توجہ دلائی ہے۔ان پر غور کریں تو یہی سبق ہے۔جب یہ دونوں باپ بیٹا خدا تعالیٰ کے سب سے پہلے گھر کی دیواریں اور بنیادیں نئے سرے سے کھڑی کر رہے تھے تو کمال عاجزی اور انکسار سے یہی دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ ہماری اس قربانی کو قبول فرماجو ہم تیرے حکم کے مطابق کر رہے ہیں۔یہ بھی کمال عاجزی ہے کہ ایک کام جس کے بارہ میں تو ان کو خود نہیں پتہ تھا۔خانہ کعبہ کی بنیادوں کا علم تو اللہ تعالیٰ کی نشاندہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہوا تھا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا تھا کہ یہ سب سے قدیم گھر ہے۔اور یہ وہ گھر ہے جس نے اب رہتی دنیا تک وحدانیت کا نشان اور symbol بن کر قائم رہنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس عمارت کو اپنی توحید کا نشان بنانا ہے۔لیکن پھر بھی یہ دعا ہے کہ اے اللہ ! ہم جو تیرے حکم سے اس کی تعمیر کر رہے ہیں، تو اس تعمیر کے ساتھ ہماری قربانیوں کو بھی وابستہ کر دے۔ہمیں یہ خوف نہیں ہے کہ اس تعمیر کے بعد اگر ہم اپنی قربانیوں کو اس سے وابستہ کر کے قبولیت کی دعا کریں گے تو ہمیں اور ہماری نسلوں کو اس ویران جگہ کی آبادی بھی کرنی پڑے گی۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہماری دعاؤں کو قبول کر کے جن فضلوں کا تو وارث بنائے گا ان کے مقابلے پر یہ قربانی بالکل حقیر قربانی ہے۔اور پھر یہ بھی کہ قربانی کا قبول کرنا بھی تیرے فضل پر ہی منحصر ہے۔ہم اگر سمجھ بھی رہے ہیں کہ ہم قربانی کر رہے ہیں تو ہمیں کیا پتہ کہ حقیقت کیا ہے؟ یہ قربانی ہے بھی کہ نہیں۔پس تو جو دعاؤں کا سننے والا ہے، تیرے سے ہم عاجزانہ طور پر یہ دعا کرتے ہیں کہ تیر اگھر جو تیرے حکم سے تعمیر ہو رہا ہے اس کی تعمیر میں جو کچھ بھی ہم نے پیش کیا ہے تو محض اور محض اپنے فضل سے قبول فرمالے۔اور قبول فرمانے کا نتیجہ اس طرح ظاہر ہو کہ ہمارا نام بھی اس سے وابستہ ہو جائے۔جہاں اللہ تعالیٰ کی صفت سمیع کا حوالہ دے کر دعا کی قبولیت کی بھیک مانگ رہے تھے وہاں اللہ تعالیٰ کی صفت علیم کا حوالہ دے کر یہ بھی دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ ! تو علیم ہے، جانتا ہے کہ ہمارے دل میں کیا ہے ؟ ہمارے دل کی حالت تیرے سے تو مخفی نہیں ہے۔تو یقیناً جانتا ہے کہ ہم خالص ہو کر تیرے سامنے جھکے ہیں اور جھکنا چاہتے ہیں۔پس ہمیں قبول فرما اور اس عمارت سے وابستہ انعامات کا ہمیشہ ہمیں وارث بنادے۔اور جب تک یہ دنیا قائم ہے اور جب تک تیری توحید کا نام یہاں سے بلند ہونا ہے ، ہمارا نام بھی اس سے منسلک رکھ۔