خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 30
خطبات مسرور جلد ہشتم 30 3 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010ء بمطابق 15 صلح 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: فَا مِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِى اَنْزَلْنَا ۖ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيْرُ (التغابن: 9) اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ احسان عظیم ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر ایسا دماغ عطا فرمایا جس کے استعمال سے وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کر دہ باقی مخلوق اور ہر چیز کو نہ صرف اپنے زیر نگیں کر لیتا ہے بلکہ اس سے بہترین فائدہ اٹھاتا ہے اور ہر نیادن انسانی دماغ کی اس صلاحیت سے نئی نئی ایجادات سامنے لا رہا ہے۔جو دنیاوی ترقی آج ہے وہ آج سے دس سال پہلے نہیں تھی اور جو دنیاوی ترقی آج سے دس سال پہلے تھی وہ 20 سال پہلے نہیں تھی۔اسی طرح اگر پیچھے جاتے جائیں تو آج کی نئی نئی ایجادات کی اہمیت اور انسانی دماغ کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔زندگی کا مقصد لیکن کیا یہ ترقی جو مادی رنگ میں انسان کی ہے یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے؟ ہر زمانے کا دنیادار انسان یہی سمجھتا رہا کہ میری یہ ترقی اور میری یہ طاقت، میری یہ جاہ و حشمت، میرا دنیاوی لہو ولعب میں ڈوبنا، میرا اپنی دولت سے اپنے سے کم تر پر اپنی برتری ظاہر کرنا، اپنی دولت کو اپنی جسمانی تسکین کا ذریعہ بنانا، اپنی طاقت سے دوسروں کو زیر نگیں کرنا ہی مقصد حیات ہے۔یا ایک عام آدمی بھی جو ایک دنیا دار ہے جس کے پاس دولت نہیں وہ بھی یہی سمجھتا ہے بلکہ آج کل کے نوجوان جن کو دین سے رغبت نہیں دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جو نئی ایجادات جو ہیں، ٹی وی ہے، انٹر نیٹ ہے، یہی چیزیں اصل میں ہماری ترقی کا باعث بننے والی ہیں اور بہت سے ان چیزوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔پس یہ انتہائی غلط تصور ہے۔اس تصور نے بڑے بڑے غاصب پیدا کئے۔اس تصور نے بڑے بڑے ظالم پیدا کئے۔اس تصور نے عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے انسان پیدا کئے۔اس تصور نے ہر زمانہ میں فرعون پیدا کئے کہ ہمارے پاس طاقت ہے ، ہمارے پاس دولت ہے ، ہمارے پاس جاہ و حشمت ہے۔لیکن اس تصور کی خدا تعالیٰ نے جو رب العالمین ہے ، جو عالمین کا خالق ہے بڑے زور سے نفی فرمائی ہے۔فرمایا کہ جن