خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 184

خطبات مسرور جلد ہشتم 184 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2010 کہ ہم نمازوں کے قائم کرنے والے بن جائیں۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنے مقصد پیدائش کی حصول کی طرف توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔عبادات میں ترقی اللہ تعالیٰ کے باقی حقوق اور بندوں کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی طرف توجہ بھی دلاتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ کے احسانوں کی شکر گزاری کی طرف بھی توجہ رہے گی۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد بھی ہمیں اپنی روحانی حالتوں کی بہتری کی طرف توجہ نہ رہی تو جہاں ہم اپنے عہد سے دور جارہے ہوں گے وہاں ہم اللہ تعالیٰ کے احسانوں کی بھی نفی کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔وَ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا (آل عمران:104) اور تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے مگر اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمانے میں اُس جماعت کے ساتھ منسلک کر دیا ہے جو آنحضرت صلی علیم کے عاشق صادق کی جماعت ہے۔آج آپ دیکھیں تو دنیائے اسلام میں یہ بات بڑے شدو مد سے کہی جارہی ہے کہ امتِ مسلمہ کو اگر سنبھالنا ہے تو نظام خلافت ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق جس نظام خلافت کو چلایا ہے اسے مسلمانوں کی اکثریت ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ خلافت راشدہ کے بعد جو لمبا عرصہ مسلمانوں کی خلافت سے محرومی رہی ہے یہ ان وجوہات اور اعمال کا نتیجہ ہے جو مسلمانوں کے تقویٰ سے دور ہٹنے اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے نافرمانی ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَقُوا ( آل عمران :104) اور تم سب اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔پس جب تفرقہ پڑا تو اس کا لازمی نتیجہ نکلنا تھا کہ تقویٰ سے بھی عمومی طور پر دوری پیدا ہو۔لیکن خدا تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے اس نے اسلام کی آخری فتح کے لئے آخرین کو پہلوں کے ساتھ جوڑ کر اس فتح کے سامان پیدا فرما دیے ہیں۔پس اس مسیح و مہدی کو مانے بغیر جس کی اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر آنحضرت ملی ہم نے آخری زمانے میں آنے کی خبر دی تھی، اس مسیح موعود سے جڑے بغیر خلافت کی برکات حاصل نہیں ہو سکتی۔پس اس حوالے سے آج میں آپ کو بھی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر احسان کرتے ہوئے مسیح موعود کو ماننے اور نظام خلافت کے سائے میں لا کر آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچایا ہے تو تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں۔اور اپنے زور بازو سے اس رسی کو کوئی نہیں پکڑ سکتا۔یا کسی کی اپنے زعم میں نیکیاں صرف اس رسی کو پکڑنے کے کام میں نہیں آسکتیں۔اس کے لئے پھر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کو حاصل کرنے کے لئے اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔جماعت کی لڑی میں پروئے رہنے اور اس سے فیض پانے، اسی طرح نظام خلافت کی برکات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ، اُس نظام سے فائدہ اٹھانے کے لئے