خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد ہشتم 136 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 مارچ2010 پس اللہ تعالیٰ ہر جزا سزا انسان کے عمل کے مطابق دیتا ہے اور کبھی ظلم نہیں کرتا۔لیکن کیونکہ دلوں کی پاتال تک سے بھی واقف ہے۔ہر عمل کا محرک اور نیت اس کے علم میں ہے اس لئے اس بات کا بھی حساب ہو گا کہ نمازیں خدا تعالیٰ کی خاطر پڑھی جارہی تھیں یاد کھاوے کے لئے۔صدقات خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کئے جارہے تھے یا دئے جارہے تھے یا دکھاوے کے لئے۔یا جو بھی نیکیاں ہیں ان کے کرنے کا محرک کیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تزکیہ نفس ہر وقت تمہارے مد نظر رہنا چاہئے اور اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہر عمل بجالانا چاہئے۔پھر برائی یا نیکی کے بعض خیالات ہیں ان کی جزا بھی خدا تعالیٰ دیتا ہے لیکن کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے اس لئے ہر برائی کا خیال جو دل میں آتا ہے اس کی پکڑ نہیں کرتا۔بلکہ اس خیال کو جب انسان دل میں بٹھالیتا ہے اور موقع ملنے پر اس بد خیال کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر قابل مواخذہ ہوتا ہے۔جیسے مثلاً ایک انسان دشمنی میں یا کسی بھی قسم کے بغض اور کینے کی وجہ سے دوسرے انسان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے گو عملاً نقصان نہ پہنچایا ہو لیکن دل میں یہ خیال جمائے بیٹھا رہے کہ جب بھی موقع ملا اس کو نقصان پہنچاؤں گا تو ایسے عمل پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتے ہیں۔لیکن کیونکہ انسان کمزور واقع ہوا ہے اور برائی کے خیالات بھی دل میں آسکتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ ہر عمل پر فوری پکڑ نہیں لیتا۔لیکن اگر انسان نیت کرے کہ میں نے کرنا ہے تب پکڑ میں آتا ہے۔اگر انسان ایسے بُرے خیالات پر عمل کرنے کی نیت نہ کرے اور موقع کی تلاش میں نہ رہے تو ایسے بد خیالات جو انسان کے دل میں آتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔اس بارہ میں آنحضرت صلی علی یم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ اگر میر ابندہ کوئی براکام کرنے کا سوچے تو یہ گناہ نہیں لکھنا۔لیکن اگر وہ اس کو عملی شکل دینے کی کوشش کرے تو پھر اس کا گناہ لکھا جائے گا۔اور اگر کوئی نیکی کا ارادہ کرے مگر وہ کر نہ سکے یا کسی وجہ سے رک جائے تو ایک نیکی لکھ لو اور اگر عملاً اس نیکی کو سر انجام دے دے تو اس کے بدلے میں دس نیکیاں لکھو۔( صحیح مسلم کتاب الایمان باب اذا هم العبد بحسنة كتبت۔۔۔حديث نمبر (233) پس اللہ تعالیٰ تو اس طرح اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ایک مومن کا کام ہے کہ اپنے اعمال اور اپنی نیتوں کو درست کرنے کی کوشش کرتا رہے۔اپنے گناہوں اور اپنی کمزوریوں پر نظر رکھے تاکہ اللہ تعالیٰ کی وسیع تر رحمت سے حصہ پائے اور عذاب سے بچے۔پھر ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكُلّ اِنْسَانِ الْزَمْنَهُ طَبِرَهُ فِي عُنْقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كِتَبًا يَلْقَهُ مَنْشُورًا - اِقْرَأْ كِتَبَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا (بنی اسرائیل: 15-14) اور ہر انسان کا اعمالنامہ ہم نے اس کی گردن سے چمٹا دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے لئے اسے ایک ایسی کتاب کی