خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 113

خطبات مسرور جلد ہشتم 113 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 مارچ 2010 تاریخ اس سے بھری پڑی ہے کہ دشمن کا ایک ہونا اور مومنین کو یا صحابہ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرنا کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔آج بھی یہی اعلان اور جواب ہے جو ایک حقیقی مومن کا ہونا چاہئے۔آج مسیح محمدی کی جماعت کے افراد کو بھی اسی طرح خوف دلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن مومنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کسی گروہ، کسی ٹولے، کسی اسمبلی یا کسی تنظیم کے ڈرانے سے نہیں ڈرتے۔بلکہ ہمیشہ صبر اور استقامت دکھاتے ہوئے اپنے ایمان میں پختگی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔ماریں کھاتے ہیں، صبر کرتے ہیں۔مالی نقصان اٹھاتے ہیں لیکن ایمان میں لغزش نہیں آنے دیتے۔شہید کئے جاتے ہیں کہ اس طرح ان کے عزیز ، بیوی، بچے ، ماں باپ، بہن بھائی خوفزدہ ہو کر دین چھوڑ دیں گے لیکن مومنین کے خلاف یہ سب منظم سازشیں انہیں مخالفین کے گروہ کے رعب میں نہیں آنے دیتیں بلکہ ان کا جواب ہمیشہ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ( آل عمران:174) ہوتا ہے۔ہمیشہ ان کی نظر خد اتعالیٰ پر ہوتی ہے۔دشمن جب شور وفغاں میں بڑھتا ہے تو وہ یارِ نہاں میں اور زیادہ ڈوبنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس آج دنیا کے بعض ممالک میں احمدیت کی مخالفت ہے تو یہ احمدیت کی سچائی کی دلیل ہے۔یہ بات ہمیں پہلے سے زیادہ دعاؤں کی طرف متوجہ کرنے والی ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔اس مخالفت نے اور گروہ بندی نے، بلکہ تمام 72 فرقوں نے جمع ہو کر ، مخالفت میں پورا زور لگا کر پاکستان میں احمدیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایانہ پہنچا سکتے ہیں۔مومن کے نزدیک ظاہری نقصان کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اصل چیز ایمان کی دولت ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر شہید کی شہادت کے بعد ان کے بیوی بچوں، ماں باپ اور عزیزوں کی طرف سے میں ایمان میں مضبوطی اور پہلے سے بڑھ کر اخلاص و وفا کے اظہار کے خطوط وصول کرتا ہوں۔یہی حال مخالفت کا آج کل ہندوستان کے بعض علاقوں میں ہے۔تمام مولوی ٹولے جمع ہو گئے ہیں اور احمدیوں کو ، نومبائعین کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اپنے دین سے پھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہی حال بنگلہ دیش میں تھا اور اب بھی جب ان کو موقع ملتا ہے کہیں کہیں ہو جاتا ہے۔یہی حال عرب کے بعض ممالک میں ہے۔شام ہو یا مصر ہو یا کوئی اور دوسرا علاقہ ہو جہاں احمدیوں کا پتا چلتا ہے ، حکومتی ادارے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی حال بلغاریہ میں احمدیوں سے کیا جارہا ہے تاکہ وہ احمدیت چھوڑ دیں۔سرکاری مفتی پولیس کے ذریعہ دباؤ ڈلواتا ہے۔یہی حال روس کی بعض مسلمان ریاستوں میں ہے۔وہاں کا جو مرکزی مفتی ہے وہ حکومتی ایجنسیوں کے ذریعہ سے ہمارے مبلغین اور افراد جماعت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض دنیا کے مختلف ممالک میں مسیح محمدی کی جماعت کی مخالفت اس کی عالمگیریت ثابت کرتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی صفت حسیب کو سمجھنے والے ہمیشہ ، ہر جگہ یہی جواب دیتے ہیں کہ جتنی چاہے گروہ بندیاں کر کے مخالفتیں کر لو۔ہمارا ہمیشہ یہ جواب ہے کہ حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ