خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 74
74 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پھر ایک جنازہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب مرحوم کا۔ان کی 88 سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔چند مہینے پہلے ان کے جوان بیٹے مکرم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کو شہید کیا گیا تھا اور بڑے صبر سے انہوں نے ان کا یہ صدمہ برداشت کیا۔ان کی 2 فروری کو وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کی بیٹی تھیں جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے معالج تھے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی آخری بیماری میں 24 گھنٹے آپ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔دین کا اچھا علم رکھنے والی تھیں۔بچیوں کو دینی تعلیم دینے والی۔میر پور خاص میں بڑا لمبا عرصہ لجنہ کی صدر رہی ہیں اور حضرت مصلح موعودؓ نے جب ان کے خاوند کو حکم دیا تھا کہ میر پور خاص میں جا کر آباد ہوں تو پورے تعاون کے ساتھ ان کے ساتھ وہاں رہیں اور وہاں جماعت کو آرگنا ئز کیا۔ان کے ایک ہی بیٹے تھے ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب جو شہید ہو گئے تھے اور کوئی اولاد نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔تیسرا جنازہ عفیفہ صاحبہ اہلیہ سیوطی عزیز احمد صاحب کا ہے جو انڈونیشیا کے رئیس التبلیغ ہیں 65 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کو پھیپھڑوں کی بیماری تھی۔یہ مولانا عبدالواحد سماٹری صاحب کی بیٹی تھیں اور خدا کے فضل سے موصیبہ بھی تھیں۔ساری زندگی انہوں نے وہیں گزاری۔بڑی دعا گو تھیں۔غریب پر ور تھیں اور ہمارے جماعت انڈونیشیا کے امیر عبدالباسط صاحب کی یہ بہن ہیں۔انہوں نے دو بیٹیاں اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو نیکیوں پر قائم کرے۔ان کے درجات بلند فرمائے۔چوتھا جنازہ ہے مرزا محمد اکرم صاحب ابن مکرم مرزا محمد اسلم صاحب۔یہ نارووال کے ایک گاؤں یا قصبے کے ہیں ان کی وفات ہوئی۔نو جوان تو نہیں ابھی انصار اللہ میں قدم رکھا ہی تھا۔ان کی دکان پہ ڈکیتی ہوئی اور ان کے جسم پر 23 گولیاں لگیں جو ڈاکوؤں نے فائر کئے۔موقع پر انتقال کر گئے۔بہر حال اس لحاظ سے یہ بھی شہید ہیں۔جماعتی کاموں میں بڑے فعال تھے۔بڑے نڈر داعی الی اللہ تھے۔بڑے با اخلاق انسان تھے۔مالی قربانیوں میں بڑے آگے بڑھے ہوئے تھے۔ان کو مختلف جماعتی خدمات کی توفیق ملی۔شہادت کے وقت یہ مقامی سیکرٹری تحریک جدید تھے۔سیکرٹری رشتہ ناطہ تھے۔انصار اللہ میں نگر ان حلقہ تھے۔خدام الاحمدیہ کے لمبا عرصہ قائد رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو خدمت کی توفیق دی۔بچے ان کے چھوٹے چھوٹے ہیں۔15 سال سے لے کر 7 سال تک۔اللہ تعالیٰ ان بچوں کو صبر اور حوصلہ دے۔ان کے درجات بلند فرمائے جیسا کہ میں نے کہا ہے ابھی نمازوں کے بعد انشاء اللہ جنازہ غائب ادا کروں گا۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شماره 8 مورخہ 20 فروری تا 26 فروری 2009 صفحہ 5 تا صفحه 9)