خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 75
خطبات مسرور جلد ہفتم 75 (7 خطبه جمعه فرموده 13 فروری 2009 فرمودہ مورخہ 13 فروری 2009ء بمطابق 13 تبلیغ 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پر معارف ارشادات کی روشنی میں یہ وضاحت کی تھی کہ اس دعا میں مسیح موعود کی بعثت کی پیشگوئی بھی ہے۔اس میں محمدی سلسلہ سے ہی مسیح موعود کے پیدا ہونے کی پیشگوئی بھی ہے۔اور اس میں امام الزمان کو قبول کرنے کا حکم بھی ہے اور مسلمانوں کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ مسلمانوں کی کمزور حالت کی بہتری اور مسلمان ممالک کے عزت و وقار کے بحال کرنے کے لئے اور قائم کرنے کے لئے یہی ایک واحد حل اور راستہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے اس فرستادے کو قبول کر لیں۔اللہ کرے کہ اس حقیقت کو سمجھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے حوالہ سے ہماری روحانی اور مادی ترقی کے لئے جو ہدایات فرمائی ہیں آج میں اُن میں سے چند ایک آپ کے سامنے رکھوں گا تا کہ اندازہ ہو کہ اس دعا میں کتنی وسعت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔ہمارا مطمح نظر کیا ہونا چاہئے؟ اپنی حالتوں کی درستی اور ہر لحاظ سے ترقیات کے لئے ہمیں کیا کچھ کرنا چاہئے ، ہمیں کس طرح دعائیں مانگنی چاہئیں۔بہر حال اقتباسات تو میں پیش کروں گا۔لیکن اس سے پہلے چند باتیں اس ضمن میں کرنا چاہتا ہوں تا کہ مزید وضاحت ہو جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ھدی کے معانی کا خلاصہ جو مختلف لغات سے اخذ کیا ہے اور وہ اپنے الفاظ میں بیان فرمایا ہے اس میں تین باتیں بیان فرمائی ہیں کہ راستہ دکھانا، راستے تک پہنچانا اور آگے چل کر منزل مقصود تک پہنچانا۔اب راستہ دکھانا اور راستے تک پہنچانا ایک چیز نہیں ہے۔بظاہر ایک چیز لگ رہی ہے۔راستہ آدمی دُور کھڑے ہو کر دکھا دیتا ہے کہ یہ راستہ فلاں جگہ تک جاتا ہے اور راستے تک پہنچانا یہ ہے کہ اس راستے پر چھوڑ کے آنا جو اس منزل تک لے جاتا ہے اور پھر یہ کہ اس راستے پر ساتھ چل کے اس منزل تک پہنچانا۔یہ اس کے معانی ہیں اور قرآن کریم میں بھی اس حوالے سے مختلف آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا ذکر فرمایا ہے۔