خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 66
66 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 فروری 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہوئے تمہاری زندگیاں ختم ہو جائیں۔تمہاری اولادوں کی زندگیاں ختم ہو جا ئیں اور اولاد در اولاد کی زندگیاں ختم ہو جائیں کہ اب میرے علاوہ کوئی ہادی اور مسیح آ جائے تب بھی اب کوئی مسیح موعود نہیں آئے گا، کوئی مہدی نہیں آئے گا۔جو آنے ولا تھا وہ آچکا۔اب اس کو مانے بغیر کوئی چارا نہیں ہے۔پس مسلمانوں کو اپنی حالتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔احمدیوں پر ظلم کرنے کی بجائے نیک نیتی سے خدا تعالیٰ سے ہدایت طلب کرنے کی ضرورت ہے۔احمدیوں پر ہر روز مختلف جگہوں پر کوئی نہ کوئی نیا ظلم ہوتا رہتا ہے۔کوئی نہ کوئی نئے طریقے تلاش کرتے رہتے ہیں۔کسی نہ کسی طریقے سے تکلیف پہنچا کر یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس ذریعہ سے شاید کچھ لوگ احمدیت چھوڑ جائیں۔احمدیت ختم تو ہو نہیں سکتی یہ تو وہ دیکھ چکے ہیں۔اب انہوں نے ایک نیا حربہ گزشتہ دنوں بچوں کو دہشت زدہ کرنے کا کیا۔14 سے 16 سال تک کے لڑکے، سکول کے بچے تھے۔ان پر یہ الزام ہے کہ نعوذ باللہ انہوں نے ٹائیلٹ میں یا بعض گندی جگہوں پر محمد کا نام لکھ کر آنحضرت ﷺ کی ہتک کی ہے۔یہ لوگ خود تو روحانی بینائی سے محروم ہیں مگر الزام احمد یوں پر دیتے ہیں۔ایسی حرکتیں تو یہ لوگ کر سکتے ہیں جن کی روحانی بینائی نہیں ہے۔جن کو آنحضرت مہ کے مقام کا علم نہیں ہے۔یہ تو 14-15 سال کے بچے ہیں، احمدی چھوٹا بچہ بھی کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ہمیں تو آنے والے مسیح و مہدی نے عشق رسول عربی میے کے وہ راستے دکھائے ہیں، وہ تعلیم دی ہے جس تک ان لوگوں کی سوچیں بھی نہیں پہنچ سکتیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو جو دنیا کے کسی بھی ملک میں رہنے والے ہیں عقل دے کہ وہ احمدیوں کو ظلم کا نشانہ بنانے سے باز رہیں اور ہدایت کی راہ تلاش کرنے کے لئے عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔یہاں ایک اور وضاحت بھی میں کرنا چاہتا ہوں۔گزشتہ دنوں لجنہ کا ریفریشر کورس تھا، وہاں کسی نے سوال کیا کہ غیر احمدی کہتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کو نبی نہ کہو تو پھر ہم مان لیتے ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ یہ ایسے بھولے احمدیوں کی جو اُن کی باتوں میں آ جاتے ہیں غلط نہی ہے کہ وہ مان لیں گے، شاید مخالفت تو کم کر دیں لیکن جنہوں نے نہیں ماننا انہیں کبھی بھی جرات پیدا نہیں ہوگی کہ وہ مانیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ نبی کی جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اپنے ایک اقتباس میں کی ہے۔اس کی رو سے آپ نبی ہیں اور آپ نے اور مختلف جگہوں پر بھی اپنے آپ کو نبی کہا ہے۔اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے سے کثرت سے کلام کرتا ہے ، اس سے مخاطب ہوتا ہے، غیب کی باتیں بتا تا ہے تو اس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نبوت ہے اور یہی باتیں تمام سابقہ انبیاء نے بتائی ہیں۔اگر یہ رد کرنے لگیں تو پھر اگلا قدم یہ ہوگا کہ یہ بھی نہ کہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوتا ہے۔تو پھر یہ بات بھی ان کی ماننی پڑے گی۔پھر کسی اور بات کو ر ڈ کرنے کا ان کا مطالبہ ہوگا۔کیونکہ جب ایک دفعہ آر