خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 600 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 600

600 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم آپ کے دشمن ہو گئے۔لیکن اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے مخالفین کے منہ سے یہ نکلوا دیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اس وقت عیسائیت کا مقابلہ کر کے انہیں دوڑایا تھا۔کیونکہ اس وقت کے جو مسلمان علماء تھے ان کو قرآن اور بائبل کا علم نہ تھا جبکہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی یہ علم رکھتے تھے۔ٹی وی پروگرام پر بھی آچکا ہے ڈاکٹر اسرار الحق نے یہ کھل کے بات کی تھی ایک دفعہ۔چاہے یہ مانیں یا نہ مانیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے علم قرآن اور خدا تعالیٰ کی آپ کے لئے تائیدات نے یہ کارنامہ آپ سے کروایا مگر حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام اور قرآن کی حفاظت کے لئے کھڑا کر کے دشمنوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کا ہی حصہ ہے جو آپ کو خدا تعالیٰ کے نور آنحضرت ﷺ کے نور اور قرآن کریم کے نور سے ملا کہ آپ کے علم کلام کی کوئی مثال آج کے دور میں پیش نہیں کی جاسکتی۔بلکہ آپ کی تفاسیر ہی ہیں جواب ہر تفسیر پر حاوی ہیں۔قرآن کریم کے ذکر ہونے کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیا ہے۔اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یاد دلاتا ہے قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں رکھی ہے۔حلم ہے، ایثار ہے، شجاعت ہے، جبر ہے ، غضب ہے، قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی قرآن نے اسے یاد دلایا جیسے فِي كِتَابٍ مَّكْنُون (الواقعہ: (79)۔یعنی صحیفہ فطرت نے کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اس طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلا وے۔“ ( رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 ء صفحہ 94 طبع اول۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد 2 صفحہ 770 مطبوعہ ربوہ ) یعنی یہ ذکر پڑھو قرآن کریم تو جو پاک فطرت ہیں ان کے دل کا جو نور ہے اس کو یہ نکال کر باہر رکھتا ہے ان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ یہ احکامات ہیں، یہ تعلیم ہے یہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، یہ بندوں کے حقوق ہیں جو تم نے ادا کرنے ہیں۔) پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہلاکت ہے ان پر جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے سخت ہیں یہ لوگ ان لوگوں کی طرح نہیں ہو سکتے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے ہیں اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا کہ یہ ذکر جو قرآن شریف کی صورت میں ہے اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔پس اس کو پڑھنا بہت ضروری ہے تا کہ اس کو پڑھنے سے انسان کی ایک مومن کی نیک فطرت اس نور سے منور ہو کر مزید روشن ہو اور صرف روشن کرنا ہی مقصد نہ ہو اپنے دل کو بلکہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل ہے جو اصل میں حقیقی روشنی کا فائدہ اٹھانے والا بناتا ہے۔ان احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جو ایک نیک فطرت انسان کے لئے ضروری ہیں۔جو ایک مومن کے لئے ضروری ہیں۔