خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 601
601 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 2009 جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنتے ہیں۔جس سے انسان کے اندر چھپی ہوئی قوتوں کو جلا ملتی ہے۔جس سے روحانیت میں ترقی کے راستے متعین ہوتے ہیں۔اگر عمل نہیں تو صرف علمی حالت اس ذکر سے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔غیر از جماعت مسلمان جو ہیں ان میں بڑے حفاظ ہیں ، بڑے مقررین بھی ہیں ہمفسرین بھی لیکن جب وہ اس پر اس طریق پر غور نہیں کر رہے جو زمانہ کے امام نے بتایا ہے تو یہ ایک ظاہری خول ہے جس سے کچھ فائدہ نہیں پاسکتے۔اس تعلیم کی عملی حالت اُن تمام باتوں کو اپنے اندر سمیٹتی ہے جس سے حقوق اللہ کی ادائیگی بھی ہورہی ہو اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہو رہی ہو۔تبھی یہ ذکر ہے جو انسان کی زندگی میں روحانی، اخلاقی علمی اور عملی معیاروں کو بلند کرنے کا باعث بنے گا۔قرآن کریم میں جو سینکڑوں احکامات پر مشتمل ہے اس کا پڑھنا اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے ذہنوں اور زبانوں کو تازہ رکھنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان تمام باتوں پر عمل بھی کیا جائے جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔عبادت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه : 15 ) کہ میرے ذکر کے لئے نماز قائم کر۔پس جہاں قرآن کریم سورۃ فاتحہ سے لے کر سورۃ الناس تک مکمل ایک ذکر ہے اور اس میں سینکڑوں نصیحتیں مومنوں کو کی گئی ہیں، احکامات دیئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم رکھنے کے لئے ایک بہت بڑا حکم نماز کا قیام ہے جسے مومنین کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں کہ ”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے۔کیونکہ اس میں حمد الہی ہے ، استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے ہم و غم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے۔اور اسی لئے فرمایا ہے الا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ( سورة الرعد : آیت (29) اطمینان و سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں“۔فرمایا کہ ”سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے“۔(اکثر لوگ اب خطوں میں پوچھتے رہتے ہیں، کئی دفعہ میں جواب دے چکا ہوں اس لئے دوبارہ بتا تا ہوں ) آپ نے فرمایا کہ سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے ، اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہیے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى طه : 15) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 311-310 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ نے جو اسلام کے لئے سینہ کھولنے والے اور اس وجہ سے ٹور پر قائم ہونے والے کی یہ نشانی بتائی ہے وہ اس کا ذکر ہے۔اس کو ہمیشہ یادرکھنا ہے۔اس کی عبادت ہے، اس کے احکامات کی پابندی ہے اگر یہ نہیں تو پھر دل آہستہ آہستہ سخت ہوتے جاتے ہیں۔