خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 566
خطبات مسرور جلد ہفتم 566 خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 آسمان سے اترنے والی روحانیت کا نور ہے۔اس کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا تا خدا تعالیٰ کے نور کا فہم و ادراک ہمارے دلوں میں بھی قائم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں کچھ (اپنے بارے میں بیان نہیں کر سکتا کہ کون ساعمل تھا جس کی وجہ سے یہ عنایت الہی شامل حال ہوئی۔صرف اپنے اندر یہ احساس کرتا ہوں کہ فطرتا میرے دل کو خدا تعالیٰ کی طرف وفاداری کے ساتھ ایک کشش ہے جو کسی چیز کے رو کنے سے رک نہیں سکتی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بزرگ معمر پاک صورت مجھ کو خواب میں دکھائی دیا اور اس نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔سومیں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا۔۔۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 195 تا 197) جب یہ خواب دیکھی تو پھر آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ روزے رکھے جائیں۔لیکن آپ نے کہا کہ میخفی طور پر رکھے جائیں کسی کو پتہ نہ لگے اور اس کے لئے پھر آپ اپنے گھر کے باہر جو کمرہ تھا، مردانہ جگہ تھی ، اس میں منتقل ہو گئے اور وہیں کھانا وغیرہ بھی منگواتے تھے اور کھانا جو آتا تھا اس کا اکثر حصہ یتیم بچوں میں تقسیم کر دیتے تھے اور خود معمولی سی ، تھوڑی سی غذا پر روٹی کھا کر گزارہ کرتے تھے۔اور ان روزوں کے دوران جن تجربات سے آپ گزرے ہیں اس کا بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اُس زمانہ میں میرے پر کھلے۔چنانچہ بعض گزشتہ نبیوں کی ملاقاتیں ہوئیں اور جو اعلیٰ طبقہ کے اولیاء اس اُمت میں گزر چکے ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔ایک دفعہ عین بیداری کی حالت میں جناب رسول الله له ومع حسنین و علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دیکھا اور علاوہ اس کے انوار روحانی تمثیلی طور پر برنگ ستون سبز و سرخ ایسے دلکش و دلستان طور پر نظر آتے تھے جن کا بیان کرنا بالکل طاقت تحریر سے باہر ہے۔وہ نورانی ستون جو سید ھے آسمان کی طرف گئے ہوئے تھے جن میں سے بعض چمکدار سفید اور بعض سبز اور بعض سرخ تھے۔ان کو دل سے ایسا تعلق تھا کہ ان کو دیکھ کر دل کو نہایت سرور پہنچتا تھا اور دنیا میں کوئی بھی ایسی لذت نہیں ہوگی جیسا کہ ان کو دیکھ کر دل اور روح کو لذت آتی تھی۔میرے خیال میں ہے کہ وہ ستون خدا اور بندہ کی محبت کی ترکیب سے ایک تمثیلی صورت میں ظاہر کئے گئے تھے۔یعنی وہ ایک نو ر تھا جو دل سے نکلا اور دوسرا وہ ٹور تھا جو اوپر سے نازل ہوا اور دونوں کے ملنے سے ایک ستون کی صورت پیدا ہوگئی۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 198-199) اور یہ سب مقام اور اللہ تعالیٰ کا آپ پر نور کا اتارنا یا اللہ تعالیٰ کا نو را تر نا آنحضرت علی کی کامل اطاعت کی وجہ سے تھا۔