خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 565
565 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 4 دسمبر 2009 میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل ہیں۔جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء ، سید الا حیاء محمد مصطفی میہ ہیں۔سو وہ نور اُس انسان کو دیا گیا۔اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔اور امانت سے مراد انسانِ کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے۔اور پھر انسان کامل برطبق آیت إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمُ اَنْ تُؤَدُّوا الا منتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء آیت : 59) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید، ہمارے مولیٰ ، ہمارے ہادی، نبی امی ، صادق مصدوق محمدمصطف منانے میں پائی جاتی تھی۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 160-162) پس یہ مقام آپ ﷺ کو اللہ تعالی کے نور سے ملا اور آپ ﷺ نے اپنے صحابہ میں یہ نور منتقل کر کے ان کو بھی اعلی اخلاق پر قائم فرمایا۔آپ نے اپنے صحابہ کو ستاروں سے تشبیہ دی ہے کہ جن کے بھی پیچھے چلو گے تمہیں روشنی ملے گی۔(مشکوۃ المصابیح الجزء الثانی۔کتاب المناقب باب مناقب الصحابه الفصل الثالث حدیث 6018 دار الكتب العلمیة بیروت 2003 ء ) خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ ملتا ہے۔عرب کے ان پڑھ کہلانے والے جو لوگ تھے اس ٹور کی وجہ سے جو انہیں آنحضرت ﷺ سے ملا اللہ تعالیٰ سے تعلق اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کا ایک نمونہ بن گئے۔اللہ تعالیٰ کے نور سے اس طرح حصہ پایا کہ اللہ تعالیٰ نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُم کا تمغہ ان کے سینے پر سجادیا جو بعد میں آنے والوں کو بھی روشنی کی راہیں دکھانے کا باعث ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان صحابہ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں محو تھے۔جو ٹو ر آپ مکہ میں تھا وہ اس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہ کے قلب پر گرتا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔تاریکی کے بجائے ان سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔حدیث میں آیا ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا اللهُ اللهُ فِی اَصْحَابِی “۔میرے صحابہ کے دلوں میں اللہ ہی اللہ ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 121 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور اللہ تعالیٰ جو نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْض ہے، اس نے اپنے نور کو آنحضرت ملی اور آپ کے صحابہ کے بعد بند نہیں کر دیا۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کا یہ نور جو آپ نے خدا تعالیٰ سے لیا ہمیشہ کے لئے جاری فیض کا ایک چشمہ ہے اور اسلامی شریعت ہی ہے جو تا قیامت جاری رہنے والی شریعت ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے محبت اور عشق میں ڈوبنے کی وجہ سے اس زمانہ میں اس نور کے ساتھ جو