خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 545

545 خطبہ جمعہ فرمودہ 20 نومبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بڑی طاقتوں کی امن قائم کرنے کی مہربانی ہے یہ ان کی کسی ہمدردی کے لئے نہیں ہے بلکہ اپنی طاقت قائم رکھنے اور ہمسایہ ممالک کے وسائل کو استعمال کرنے کے لئے ہے اور آخر میں دنیا دیکھے گی کہ نتیجہ یہی نکلے گا۔پس آجکل جو حالات ہیں، دنیا کی طاقتوں کی جو چھیڑ چھاڑ شروع ہے اس کا بھی انجام بڑا بھیا نک نظر آ رہا ہے۔اس کے لئے بھی احمدیوں کو بہت دعا کرنی چاہئے۔مسلمانوں کو کہا گیا ہے کہ تم ان کی دولتوں اور ان موجودہ حالتوں کو نہ دیکھو۔تمہاری کامیابی خدا تعالیٰ سے تعلق میں ہے اور اس کا طریق یہ ہے کہ فرمایا وَ أَمر اَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرُ عَلَيْهَا لَا نَسْتَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ۔وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوی (طہ: 133) اور اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرتارہ اور اس پر ہمیشہ قائم رہ۔ہم تجھ سے کسی قسم کا رزق طلب نہیں کرتے۔ہم ہی تو تجھے رزق عطا کرتے ہیں اور نیک انجام تقویٰ ہی کا ہوتا ہے۔اپنی روحانی حالت بڑھانے کے لئے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے خود بھی نمازوں کی طرف توجہ دو اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تلقین کرو۔یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور جیسا کہ رزق کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے یہاں بھی یہی بیان ہے کہ اصل رزق تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔مومن جب عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کو خدا تعالیٰ جہاں مادی رزق دیتا ہے وہاں وہ روحانی رزق میں بھی ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے بڑھتا ہے۔اس میں قناعت پیدا ہوتی ہے۔اس کی نظر دوسروں کی دولت پر پڑنے کی بجائے ہر آن خدا تعالیٰ پر پڑتی ہے اور جب یہ صورت ہوگی تو تقویٰ میں ترقی ہوگی اور متقی کا اللہ تعالیٰ خود ہر معاملے میں کفیل ہو جاتا ہے۔اسے ایسی ایسی جگہوں سے دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔یہ بھی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وہ متقی ہر وقت اللہ تعالی کی پناہ میں ہوتے ہیں۔دوسروں کی دولت اور طاقت کی انہیں رتی بھر پروانہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری اولادوں کو اپنے سے خاص تعلق پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس مقصد کے حصول کے لئے آنحضرت ﷺ نے ایک دعا بھی سکھائی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔یہ روایت حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کچھ کلمات سکھائے کہ میں ان کو وتر میں پڑھا کروں۔کلمات یہ ہیں کہ اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں شامل کر کے ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے۔اور مجھے ان لوگوں میں شامل کر کے عافیت دے جنہیں تو نے عافیت دی ہے۔اور ان لوگوں میں شامل کر کے میر ا متکفل بن جاجن کی تو نے خود کفالت کی ہے۔اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت رکھ دے۔اور جو شر تو نے مقدر کر رکھا ہے اس سے مجھے بچا۔یقینا تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔جس کا تو دوست بن جائے وہ کبھی ذلیل ورسوا نہیں ہوتا۔اے ہمارے