خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 529 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 529

529 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 2009 کہا ہے حالانکہ اس کو تو کسی دوست کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے استغناء ایک شرط کے ساتھ ہے وَلَمْ يَكُن لَّهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلّ (بنی اسرائیل: 112) یہ بالکل سچی بات ہے کہ خدا تعالیٰ تھرہ کرکسی کو ولی نہیں بناتا۔بلکہ محض اپنے فضل اور عنایت سے اپنا مقرب بنالیتا ہے۔اس کو کسی کی کوئی حاجت نہیں ہے۔اس ولایت اور قرب کا فائدہ بھی اسی کو پہنچتا ہے یعنی انسان کو پہنچتا ہے۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا اجتباء اور اصطفاء فطرتی جو ہر سے ہوتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی کو پسند کرتا ہے، چھانٹتا ہے اور برگزیدگی عطا فرماتا ہے تو وہ انسان کے اندر اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھنے کا جو تعلق ہوتا ہے اس کو دیکھتے ہوئے عطا کرتا ہے۔فرمایا کہ ممکن ہے گزشتہ زندگی میں وہ کوئی صغائر یا کبائر رکھتا ہو۔ایک انسان اپنی پہلی زندگی میں چھوٹے اور بڑے گناہ کرنے والا ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ سے اس کا سچا تعلق ہو جاوے تو وہ کل خطائیں بخش دیتا ہے۔ایک گنہگار انسان بھی جو اپنی پہلی زندگی میں بہت گناہ کرنے والا ہے بڑے بڑے گناہ بھی کرتا ہے چھوٹے گناہ بھی کرتا ہے لیکن جب اس کا خدا تعالیٰ سے ایک تعلق ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پھر اس کی پہلی خطائیں بخش دیتا ہے۔اور پھر اس کو کبھی شرمندہ نہیں کرتا۔نہ اس دنیا میں اور نہ آخرت میں۔یہ کس قدر احسان اللہ تعالیٰ کا ہے کہ جب وہ ایک دفعہ درگزر کرتا اور عضو فرماتا ہے۔پھر اس کا کبھی ذکر ہی نہیں کرتا۔اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔پھر با وجود ایسے احسانوں اور فضلوں کے بھی اگر وہ یعنی انسان ” منافقانہ زندگی بسر کرے تو پھر سخت بد قسمتی اور شامت ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 596-593 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) فرمایا: "برکات اور فیوض الہی کے حصول کے واسطے دل کی صفائی کی بھی بہت بڑی ضرورت ہے۔جب تک دل صاف نہ ہو کچھ نہیں۔چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ دل پر نظر ڈالے تو اس کے کسی حصہ یا کسی گوشہ میں کوئی شعبہ نفاق کا نہ ہو۔جب یہ حالت ہو تو پھر الہی نظر کے ساتھ تجلیات آتی ہیں۔کسی بھی قسم کی منافقانہ زندگی نہ ہو۔انسان کے دل میں منافقانہ بات نہ ہو۔’ اور معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔اس کے لئے ایسا وفادار اور صادق ہونا چاہئے جیسے ابراہیم نے اپنا صدق دکھایا۔یا جس طرح پر آنحضرت ﷺ نے نمونہ دکھایا۔جب انسان اس نمونہ پر قدم مارتا ہے تو وہ بابرکت آدمی ہو جاتا ہے۔پھر دنیا کی زندگی میں کوئی ذلت نہیں اٹھاتا اور نہ تنگی رزق کی مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔بلکہ اس پر خدا تعالیٰ کے فضل و احسان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور مستجاب الدعوات ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کو لعنتی زندگی سے ہلاک نہیں کرتا بلکہ اس کا خاتمہ بالخیر کرتا ہے۔مختصر یہ کہ جو خدا تعالیٰ سے سچا اور کامل تعلق رکھتا ہو تو خدا تعالیٰ اس کی ساری مرادیں پوری کر دیتا ہے۔اسے نامراد نہیں رکھتا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 595 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر ان آیات میں سے جو دوسری آیت ہے اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَكَانُوْا