خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 482

482 خطبہ جمعہ فرمودہ 19اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اسلام کی روشنی نے دوبارہ دنیا میں پھیلنا ہے اور یہ دین مضبوطی کے ساتھ دنیا میں قائم ہونا ہے۔اپنے قوی ہونے کے بارے میں بھی اور اس حوالے سے کہ آپ کی تائید اور نصرت بھی اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کئی مرتبہ الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی۔ایک جگہ حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُوَّةُ الرَّحْمَنِ لِعُبَيْدِ اللهِ الصَّمَدِ - ( تذکرہ - صفحہ 82۔ایڈیشن چہارم 2004 ء مطبوعہ ربوہ ) کہ یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندے کے لئے وہ فنی مطلق ظاہر کرے گا۔پھر فرمایا: إِنَّهُ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔وہ قوی اور غالب ہے۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 5-6 پھر ایک جگہ فرماتا ہے اِنَّ رَبِّي قَوِيٌّ قَدِيرٌ إِنَّهُ قَوِيٌّ عَزِيزٌ - میرا رب زبر دست قدرت والا ہے۔اور وہ قومی اور غالب ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 107) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ میں اپنی چم کار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اَلْفِتْنَةُ هَهُنَا فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْم۔اس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولوا العزم نبیوں کی طرح صبر کر۔فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا ـ جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔قُوَّةُ الرَّحْمٰنِ لِعُبَيْدِ اللهِ الصَّمَدِ۔یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندے کے لئے وہ فنی مطلق ظاہر کرے گا۔مَقَامٌ لَا تَتَرَقَّى الْعَبْدُ فِيْهِ بِسَعْيِ الْأَعْمَالِ - یعنی عَبْدُ اللَّهِ الصَّمَد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبت خاص عطا ہوتا ہے۔کوششوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 665- حاشیہ در حاشیہ نمبر 4) اللہ تعالیٰ کا بندہ بنا یا بے نیاز ہونا یہ ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عطا ہے اور خاص عطا اسی وقت ہوتی ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھتا ہے لیکن پھر بھی عطا اللہ تعالیٰ کی عطا ہی ہے۔انعام جو ہے اللہ تعالیٰ کا انعام ہی ہے۔کسی کوشش سے عطا نہیں ہوتا لیکن بہر حال اس سے اللہ تعالیٰ سے بندے کا ایک تعلق ظاہر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے عطا فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” مجھے اللہ جلشانہ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈ میں گئے۔برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 35)