خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد ہفتم 481 خطبہ جمعہ فرموده 19اکتوبر 2009 دنیا جانتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مظلوموں کو جو مکہ میں آگ پر لٹائے جاتے تھے، جن کی نگی پیٹھوں پر کوڑے مارے جاتے تھے ، جن کے جسموں کو چیرا جاتا تھا اسی قومی خدا کی مدد اور نصرت سے نہ صرف ظلم سے بچایا بلکہ قیصر و کسری کی حکومت کے والی بنا دیئے گئے۔پس یہ ہے قومی خدا کی شان۔جیسا کہ میں نے کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے قوی ہونے کا ذکر کئی آیات میں کیا ہے اور تقریباً ہر جگہ اللہ تعالیٰ اور انبیاء کے دشمنوں کے بد انجام کا ذکر فرمایا ہے یا بعض نصیحتیں فرمائی ہیں۔دو مختلف آیتیں میں نے پڑھی ہیں۔لیکن آئندہ کے لئے بھی اس میں خوشخبری دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ آئندہ بھی غالب آئیں گے۔جیسا کہ سورہ مجادلہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (المجادلہ : 22) کہ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ ضرور میں اور میرے رسول غالب آئیں گے۔یقینا اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ حق ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ہمیشہ تمام انبیاء کے مخالفین اپنے بد انجام کو پہنچے ہیں۔جب تک مسلمان اسلام کی حقیقی تعلیم کے علمبردار رہے اور اس پر عمل کرنے والے بنے رہے کا میابیاں ان کے قدم چومتی رہیں۔جب نہ دین باقی رہا نہ اسلام باقی رہا تو اپنی اپنی حکومتیں بچانے کی فکر میں سارے لگ گئے کہ کم از کم جو چھوٹی چھوٹی حکومتیں ہیں وہی بچ جائیں۔آجکل مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ ایسی تو نہیں جس کے متعلق کہا جاسکے کہ مسلمانوں کی بڑی شان و شوکت ہے۔دوسرے لوگ ان کی اس شان کو دیکھ کر ان کی طرف رشک سے دیکھنے والے ہیں۔یا اس شان و شوکت کی وجہ سے بعض ملک ان کی طرف حسد سے دیکھنے والے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ بعض ملکوں کی جو تیل کی دولت ہے اس پر غیروں کی نظر ہے اور وہ اس دولت کی طرف دیکھنے والے ہیں۔بلکہ مسلمان جو ہیں دولتمند ترین ملک بھی اپنی بقا کے لئے غیر مسلموں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔پس اس وقت بظاہر مسلمانوں کی نہ شان وشوکت ہے، نہ ہی ترقی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ہاں گراوٹ اور ذلت جو ہے وہ ہر اس شخص کو نظر آتی ہے جو اسلام کا درد رکھنے والا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کا غلبہ کا جو یہ وعدہ ہے یہ نعوذ باللہ غلط ہورہا ہے یا اس غلبہ کے وعدے کی مدت گزر چکی ہے اور یہ ایک وقت تک کے لئے تھا۔یا اللہ تعالیٰ کے قوی ہونے کی صفت میں کوئی کمی آگئی ہے۔یہ ساری باتیں غلط ہیں۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اسلام جو تا قیامت رہنے اور ترقی کرنے والا مذہب ہے اس کے بارہ میں جو پیشگوئی ہے وہ بھی سچی ہے اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کی طرح قوی ہونے کی صفت بھی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے اور قائم رہے گی اور اسی غلبہ اور قوی ہونے کی صفت ثابت کرنے کے لئے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانے کا امام بنا کر بھیجا ہے۔جنہیں خود بھی انہی الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا تھا کہ كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی۔پس دین