خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 467

خطبات مسرور جلد ہفتم 467 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 بعض قوانین کی وجہ سے پاکستان میں یا بعض ملکوں میں تبلیغ کی پابندی ہے لیکن جماعت کی مخالفت میں رونما ہونے والے واقعات ہماری تبلیغ کے راستے خود بخود کھول دیتے ہیں اور کئی لوگ پاکستان سے بھی ، دوسرے عرب ممالک سے بھی براہ راست یہاں خط لکھ کر بیعت کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔پس یہ مخالفتیں بھی ہمیں ترقیات کی طرف لے جانے والی ہیں۔یہ مخالفین چند جانوں کو تو ختم کر سکتے ہیں، مالوں کو تو لوٹ سکتے ہیں ، ہماری عمارتوں کو تو نقصان پہنچا سکتے ہیں، ہماری مسجدوں کی تعمیر تو رکوا سکتے ہیں لیکن ہمارے ایمانوں کو کبھی کمزور نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ امتحان اور ابتلا اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اگلی آیت میں تمام قسم کے نقصانوں کا تفصیل سے ذکر کر کے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے۔فرمایا تمہیں خوف سے بھی آزمائیں گے۔اگر تم صبر اور دعا سے اس خوف کی آزمائش سے گزر گئے تو تمہیں خوشخبری ہو کہ تم انعامات کے وارث بننے والے ہو اور خوف کس قسم کے ہیں؟ ہر وقت دشمن کے حملوں کا بھی خوف ہے۔مولویوں کی شرارتوں کا بھی خوف ہے۔ذراسی بات پہ مقدمات ہونے کا بھی خوف ہے۔حکومتوں کے قوانین کا خوف ہے۔حکومتی افسران کی دھمکیوں کا خوف ہے۔لیکن مومن کسی قسم کے جتھوں، پارلیمنٹوں کے فیصلوں سے ڈر کریا جو خوف میں نے بتائے ہیں ان سے کسی قسم کا خوف کھا کر اپنے ایمان کو نہ ضائع کرتے ہیں نہ ان میں کمزوری پیدا کرتے ہیں۔پھر بھوک کے ذریعہ سے آزمانا ہے، جیسا کہ وسیع پیمانے پر اس کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں، اب بھی انکا دُکا واقعات ہوتے رہتے ہیں۔لیکن 1974ء میں جماعت کے خلاف جو حالات پیدا کئے گئے تھے اور اس میں احمدیوں پر سختیاں کی گئی تھیں کہ نہ کسی کو یہ اجازت تھی کہ احمدی گھروں تک کھانے پینے کا سامان پہنچا سکے اور نہ احمدیوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت تھی کہ بازار سے جا کر کھانے پینے کا سامان لے لیں اور اگر نکل ہی جائیں تو پھر دکانداروں پر پابندی تھی کہ ان کو کسی قسم کی کھانے پینے کی چیز نہیں دینی۔پھر مالوں کا لوٹنا ہے، آجکل بھی احمدیوں کے مالوں پر قبضہ کرنے اور ان کو ہڑپ کرنے کی جو بھی کوششیں ہو سکتی ہیں کی جاتی ہیں۔اور اگر کوئی احمدی اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے قانونی طور پر کوشش کرے تو بعض دفعہ ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں، کہہ دیتے ہیں کہ قادیانی ہے اور اس نام سے ہی کہ یہ قادیانی ہے یا احمدی ، بعض انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے لوگ جو ہیں یا انتظامی افسران بھی جو ہیں وہ احمدیوں کی داد رسی نہیں کرتے۔جماعتی طور پر بھی 1974ء میں ربوہ کی زمین کا ایک حصہ حکومت نے مولویوں کے سپرد کر دیا، قبضہ دلوا دیا جہاں آجکل مسلم کالونی آباد ہے اور کچھ عرصہ پہلے جماعت کی زرعی زمین جوٹی آئی کالج کے نئے کیمپس کے ساتھ تھی ، اور بوہ کی ایک اوپن