خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 441

441 خطبه جمعه فرمودہ 18 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد هفتم انکار کی وجہ سے اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ( البقرة : 86 ) ( کہ کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر تو ایمان لاتے ہو اور ایک حصہ کا انکار کرتے ہو ) کے مصداق ٹھہرتے ہیں۔پس حقیقی مومن وہی ہیں جو قرآن شریف کی ابتدا سے آخر تک ہر حکم پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک تمام انبیاء پر ایمان لانے والے ہیں۔پس یہ ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ اس دن کا خاص اہتمام کریں اور تجارتوں کو چھوڑ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کو تجارتوں سے بھی خاص نسبت ہے۔ہر قسم کے کاروباروں میں بڑی وسعت پیدا ہو چکی ہے۔سٹاک مارکیٹوں سے دنیا کی تجارتوں کے اتار چڑھاؤ کا پتہ چلتا ہے جو اس کاروبار میں ملوث ہیں یا یہ کرتے ہیں ، اتنے مصروف ہوتے ہیں اور مختلف کمپنیوں کے شیئرز (Shares) کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر سودے کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کا اس بولی کے دوران یا ریٹ اوپر نیچے ہونے کے دوران ایک لمحے کے لئے بھی آنکھ جھپکنا یا سوچ ادھر ادھر پھیرنا ان کو لاکھوں کروڑوں اربوں کا گھاٹا دلوا دیتا ہے۔اسی طرح منڈیوں کے چھوٹے کاروبار ہیں اور اس کاروبار میں منسلک تمام لوگ چاہے وہ تنخواہ دار ملازم ہی ہوں اس تجارت اور بیچ کے دوران جو پہلے کبھی کسی زمانے میں اس شدت سے نہیں تھی اور اتنی آرگنا ئز نہیں تھی جتنی مسیح موعود کے زمانہ میں ہو گئی ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ الیکٹرانک ذرائع اس میں استعمال ہونے کی وجہ سے تجارت کے لئے وقت کی اہمیت بھی ہر دن بہت بڑھتی چلی جارہی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جتنی بھی چاہے بڑی تجارت ہو، چاہے جتنی تمہارے پاس وقت کی کمی ہو نماز جمعہ کے مقابلہ میں اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں اور تمہارا وقت نکال کر اپنے تمام ممکنہ نقصانات کو پس پشت ڈال کر جمعہ کا اہتمام کرنا بہر حال ضروری ہے اور چھوٹے موٹے کاروباری لوگوں کے لئے تو پھر کوئی بہانہ رہ ہی نہیں جاتا۔پس ہم احمدی ہی آج وہ مومن ہیں اور ہونے چاہئیں جن کو اپنے جمعوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔تبھی ہم اس زمانے کے راہنما کی راہنمائی سے حقیقی فیض حاصل کر سکتے ہیں اور تبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتے ہوئے اس کی رضا کے حاصل کرنے والے ٹھہر سکتے ہیں۔جمعہ کی اہمیت کے بارے میں آنحضرت یا اللہ نے کس طرح ہمیں توجہ دلائی اور یہودیوں اور عیسائیوں سے کس طرح ہمیں ممتاز فرمایا ہے اس کا ایک روایت میں ذکر آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن آخرین ہونے کے باوجود اور باوجود اس کے کہ انہیں کتاب پہلے دی گئی ہم سابقین ہوں گے۔یہ ان کا وہ دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا مگر انہوں نے اختلاف کیا مگر خدا تعالیٰ نے ہماری اس کی طرف درست را ہنمائی کر دی۔اب لوگ ہمارے پیچھے ہی چلیں گے۔یہود ایک دن بعد اور نصاری پرسوں۔( بخاری کتاب الجمعہ باب فرض الجمعۃ حدیث نمبر 876) یہ بخاری کی حدیث ہے۔کتاب الجمعہ اور فرض الجمعہ کے باب میں ہے۔یہ حدیث ایسی ہے کہ اس کی وضاحت ضروری ہے۔اس ضمن میں میں مختصر یہ بتا دوں کہ جماعت میں حضرت