خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 442

442 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 ستمبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے سپرد یہ کام ہوا تھا کہ بخاری کی حدیثیں جمع کریں اور پھر اس کی تھوڑی سی شرح بھی لکھیں۔اُس زمانہ میں کتاب کی کچھ جلدیں شائع ہوئی تھیں اور پھر بڑا لمبا عرصہ اس کی اشاعت نہیں ہو سکی۔اب کچھ سال ہوئے میں نے ایک نور فاؤنڈیشن قائم کی ہے۔اس کے تحت جماعت میں بھی احادیث کی کتب کی اشاعت ہو رہی ہے اور مسلم کی کئی جلد میں اور بخاری کی کئی جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔بہر حال شاہ صاحب نے اس کی جو شرح لکھی ہے وہ ایسی ہے کہ اس سے اس حدیث کی وضاحت ہوتی ہے۔وہ تو خیر لمبی شرح ہے۔شاہ صاحب نے اس میں جمعہ کی نماز کی فرضیت اور اہمیت کے بارہ میں بعض فقہاء جو جمعہ کی نماز کو فرض کفایہ سمجھتے تھے، کا علمی اور زبان کے قواعد کے رو سے جواب دینے کے بعد ، ( فرض کفایہ وہ ہے جس میں چند لوگ اگر شامل ہو جائیں، پڑھ لیں تو کافی ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ سب شامل ہوں ) اس کو غلط ثابت کیا۔انہوں نے بتایا ہے کہ یہ فرض کفایہ نہیں ہے بلکہ اسی طرح فرض ہے جس طرح نمازیں فرض ہیں۔پھر سبت کے لفظ کی لغوی بحث کی ہے اور یہودیوں کی تاریخ اور تعامل سے یہ بیان کیا ہے جیسا کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جمعہ کا دن ہی یہودیوں کا بھی سبت کا دن تھایا اس کا کچھ حصہ اس میں شامل تھا جو بعد میں ہفتہ میں بدل گیا۔تو شاہ صاحب کی جو شرح ہے اس کا کچھ حصہ اس تعلق میں پیش کرتا ہوں۔ایک تو سبت کے لغوی معنی ہیں۔لسان العرب کے تحت اس کے معنی ہیں کہ کام کاج چھوڑ کر آرام کرنا اور اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ مشاغل سے کلیتا منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جانا۔ایک روز عبادت میں سارا دن مشغول رہنے کا حکم بنی اسرائیل میں مخصوص تھا جس کا ذکر خروج باب 31 آیت 14 تا 16 میں ہے اور خروج میں ہی دوسری جگہ بھی ہے۔اور احبار میں بھی ہے۔بہر حال اس حکم کی آخر انہوں نے خلاف ورزی کی۔جس کی وجہ سے ان کو سزا ملی۔تو جمعہ کے روز ( میں یہ شاہ صاحب کی اس حصہ کی وضاحت پڑھ رہا ہوں ) "مسلمانوں کے لئے ایسی کوئی پابندی نہیں جیسی بنی اسرائیل کے لئے تھی۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اس خصوصیت کا ذکر بائیں الفاظ فرماتا ہے کہ اِنَّمَا جُعِلَ السَّبُتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فيه (النحل: 125) - سبت یعنی مشاغل دنیا سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنے کا حکم انہی لوگوں کے لئے مخصوص تھا جنہوں نے اس کی خلاف ورزی کی۔اس آیت کے یہ معنی نہیں کہ ساتواں دن ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔اگر عیسائی زمانہ کی رو میں یہ کر بجائے ہفتہ، اتوار کو عبادت کا دن منا سکتے ہیں تو یہودیوں کا ایسا کرنا بعید از قیاس نہیں ( کہ جمعہ سے ہفتہ کر لیا ہو ) جیسا کہ تاریخی واقعات اور قرائن اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہود نے بھی اپنی جلا وطنی کے ایام میں بابلیوں اور فارسیوں کے درمیان مدت تک بود و باش رکھنے کی وجہ سے ان کے مشرکانہ عقائد و رسوم کو اپنا لیا تھا اور ان مشرک اقوام کے زیر اثر انہوں نے اپنے مذہب کے اصول میں بھی تغیر و تبدل کیا۔جمعہ کے دن کو بھی قدیم یہودیوں کے نزدیک ایک تقدس حاصل تھا۔چنانچہ روحانی احکام اور فیصلہ جات جو مؤرخ یو سیفس نے