خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 418
418 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 4 ستمبر 2009 حصہ جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ ختم نہ ہو سکے ورنہ تو قرآن کریم ایک ایسا سمندر ہے کہ انسان اس کو بیان کرنا شروع کرے تو کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا۔اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر انسان جب اس پر غور کرتا ہے تو نئے سے نئے نکات آتے چلے جاتے ہیں۔سب سے پہلے تو یہ ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کے آداب کیا ہیں اور قرآن کریم کو پڑھنے سے پہلے کس طرح ذہن کو صاف کرنا چاہئے۔اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِدُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ (انحل: 99)۔پس جب تو قرآن پڑھے تو دھتکارے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کو تقویٰ کی راہ سے ہٹانے کے لئے شیطان نے ایک کھلا اعلان کیا ہے، ایک چیلنج دیا ہوا ہے اور قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کا ہر ہر لفظ خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ، تقویٰ پر قائم کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والے راستوں کی راہنمائی کرنے والا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے قرب کے معیاروں کو حاصل کرنا چاہتے ہو، اور اس تعلیم کو سمجھنا چاہتے ہو جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے تو قرآن کریم پڑھنے سے پہلے خالص ہو کر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہیں شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے بچائے اور اس تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق دے جو تم پڑھ رہے ہو۔کیونکہ یہ ایسا بیش قیمت خزانہ ہے جس تک پہنچنے سے روکنے کے لئے شیطان ہزاروں روکیں کھڑی کرے گا اور اگر شیطان سے بچنے کی دعانہ کی تو تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کس وقت شیطان نے کس طرف سے تمہیں اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سمجھنے سے روک دیا ہے۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے لیکن شیطان کی گرفت میں آنے کی وجہ سے اس کلام کو پڑھنے سے تمہاری راہنمائی نہیں ہو سکے گی۔پس پہلی بات تو یہ کہ قرآن کریم کو خالص اللہ تعالی کی پناہ میں آ کر پڑھور نہ مجھ نہیں آئے گی۔اس لئے ایک جگہ فرمایا کہ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ( بنی اسرائیل: 83) کہ ظالموں کو قرآن کریم خسارے میں بڑھاتا ہے حالانکہ مومنوں کے لئے یہی نفع رساں ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللَّهُ يُقَدِ رُاللَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُ وُا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ۔عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَّرْضَى وَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فضل الله (المزمل: 21) یعنی اور اللہ رات اور دن کو گھٹاتا بڑھاتا رہتا ہے۔(اس سے پہلے کا حصہ میں چھوڑ رہا ہوں)۔اور وہ جانتا ہے کہ تم ہر گز اس طریق کو نبھا نہیں سکو گے۔پس وہ تم پر عفو کے ساتھ جھک گیا ہے۔پس قرآن میں سے جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو۔وہ جانتا ہے کہ تم میں سے مریض بھی ہوں گے اور دوسرے بھی جوز مین پر اللہ کا فضل چاہتے ہوئے سفر کرتے ہیں۔اور پھر اس کے آگے بھی کچھ ہدایات ہیں۔اس حصے سے پہلے آیت میں تہجد کے نوافل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں قرآن کا حصہ جو بھی یاد ہو پڑھو اور اس کے علاوہ بھی جتنا